براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 145

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم جب کہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے شمار کیا تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اُس دن سے ڈرو یارو کہ ہے روز شمار ۱۱۵ آنکھ رکھتے ہو ذرہ سوچو کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار یہ کرم مجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبار کر دگار مجھ کو خود اُس نے دیا ہے چشمہء توحید پاک تا لگاوے از سر نو بانغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر تو یہ چادر اُتار بدگمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں جب کہ ہے شورِ قیامت آشکار خیرگی ނ ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بُرے آئے ہیں دن یا پڑ گئی لعنت کی مار کچھ تو سمجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں عجب اُن کو کیا اپنا شکار اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہوگئی اے ہوشیار میں اگر کاذب ہوں کذابوں کی دیکھوں گا سزا پر اگر صادق ہوں پھر کیا عذر ہے روز شمار اس تعصب پر نظر کرنا کہ میں اسلام پر ہوں فدا پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نو بہ خدا جس سے ہوا دن آشکار ہائے وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی ساربان نفس دوں نے کس طرف پھیری مہار کام جو دکھلائے اُس خلاق نے میرے لئے کیا وہ کرسکتا ہے جو ہو مفتری شیطاں کا یار میں نے روتے روتے دامن کر دیا تر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی باحال زار