براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 144

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۴ براہین احمدیہ حصہ پنجم روضه آدم کہ تھا نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار وہ ۱۱۴ وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ سُنار وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ و جبر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثل بت سیمیں عذار پس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اٹھا وے دیں کی راہ سے جو اُٹھا تھا اک غبار تا دکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزه معنیء راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار اے مرے پیار و شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مشک تتار نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامان دمار جس نے نفس دوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اُس کے آگے رستم و اسفندیار گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں ستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال اللہ اکبر کس قدر ہے نابکار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیس سے فرار پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار محتاج باران بهار