براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 133

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۳ براہین احمدیہ حصہ پنجم غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بیشمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار دشمنوں ! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار کیا کروں تعریف حسن یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیل نفس دوں سے یار اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی کہ ہے وہ دور تر از صحنِ یار اُس رخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اس دلبر کے مجھے پر آشکار قوم کے لوگو! ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادی ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن ہوئے پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار کیا اپنچھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا جو چاہیے تھا مومنوں کا دوستدار اہل تقویٰ تھا کرم دیں بھی تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھے پہ وار بے معاون میں نہ تھا تھی نصرت حق میرے ساتھ فتح کی دیتی تھی وہی حق بشارت بار بار پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُس کی بند تھی پھر سزا پاکر لگایا سرمه دنباله دار نام بھی کذاب اس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روز شمار اب کہو کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار قتل کی ٹھانی شریروں نے چلائے تیر مکر بن گئے شیطاں کے چیلے اور نسل ہونہار سے