براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 132

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم احمد بنا ۱۰۲ ہر طرف ہر ملک میں ہے بت پرستی کا زوال کچھ نہیں انسان پرستی کو کوئی عز و وقار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گومنہ کریں بک بک ہزار اسمعوا صوت السما جاء المسيح جاء المسيح نيز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسمان بارد نشان الوقت مے گوید زمیں ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آدیں یہ دن اور یہ بہار اے مکذب کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا کب تلک تو خوئے شیطاں کو کرے گا اختیار ملت احمد کی مالک نے جو ڈالی تھی پنا آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزان دیار گلشن ہے مسکن بادِ صبا جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتار یار ورنہ وہ ملت وہ رہ وہ رسم وہ دیں چیز کیا سایہ افگن جس پہ نور حق نہیں خورشید وار دیکھ کر لوگوں کے کینے دل مرا خوں ہو گیا قصد کرتے ہیں کہ ہو پامال دیر شاہوار ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف وہ بلاتے ہیں کہ ہو جائیں نہاں ہم زیر غار نور دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں بر خلاف شہریار ہائے مارِ آستیں وہ وہ بن گئے دیں کے لئے وہ تو فربہ ہو گئے پر دیں ہوا زار و نزار ان غموں سے دوستو خم ہو گئی میری کمر میں تو مرجاتا اگر ہوتا نہ فضل کردگار اس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش اس آئم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہر و ماہ کی آنکھ غم سے ہوگئی تاریک و تار مفتری کہتے ہوئے ان کو حیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں کہ اُس عالم سے ہیں یہ برکنار