براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 125

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۵ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور دراصل وہ خدا کا حکم تھا تو یہ انحراف موجب معصیت ہوا۔ اور اگر اُس حکم کو بجالا یا اور اصل میں شیطان کی طرف سے وہ حکم تھا تو اس سے ایمان گیا ۔ پس ایسے الہام پانے والوں سے وہ لوگ اچھے رہے جو ایسے خطر ناک الہامات سے جن میں شیطان بھی حصہ دار ہوسکتا ہے۔ محروم ہیں۔ ایسے عقیدہ کی حالت میں عقل بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ممکن ہے کہ کوئی الہام الہی ایسا ہو جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا تھا جس کی تعمیل میں اس کے بچہ کی جان خطرہ میں پڑتی تھی یا جیسا کہ خضر علیہ السلام کا الہام تھا جس نے بظاہر حال ایک نفس زکیہ کا ناحق خون کیا اور چونکہ ایسے امور بظاہر شریعت کے برخلاف ہیں اس لئے شیطانی دخل کے احتمال سے کون ان پر عمل کرے گا اور بوجہ عدم تحمیل معصیت میں گرے (۹۶) گا ۔ اور ممکن ہے کہ شیطان لعین کوئی ایسا حکم دے کہ بظاہر شریعت کے مخالف معلوم نہ ہو اور دراصل بہت فتنہ اور تباہی کا موجب ہو یا پوشیدہ طور پر ایسے امور ہوں جو موجب سلب ایمان ہوں ۔ پس ایسے مکالمہ مخاطبہ سے فائدہ کیا ہوا۔ پھر آیات متذکرہ بالا کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین یعنی مسیح موعود اس قوم کو جو یا جوج ماجوج سے ڈرتی ہے کہے گا کہ مجھے تا نبالا دو کہ میں اس کو پگھلا کر اُس دیوار پر انڈیل دوں گا ۔ پھر بعد اس کے یا جوج ماجوج طاقت نہیں رکھیں گے کہ ایسی دیوار پر چڑھ سکیں یا اس میں سوراخ کر سکیں ۔ یادر ہے کہ لوہا اگر چہ بہت دیر تک آگ میں رہ کر آگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے مگر مشکل سے چکھاتا ہے مگر تا نبا جلد پگھل جاتا ہے اور سالک کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں پگھلنا بھی ضروری ہے ۔ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مستعد دل اور نرم طبیعتیں لاؤ کہ جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھ کر پکھل جائیں کیونکہ سخت دلوں پر خدا تعالیٰ کے نشان کچھ اثر نہیں کرتے لیکن انسان شیطانی حملے سے تب محفوظ ہوتا ہے کہ اوّل استقامت میں لوہے کی طرح ہو