براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 108
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۰۸ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں آنا اپنے مذہب کا جزو بنا دیا تھا حالانکہ خدا تعالیٰ صریح الفاظ سے قرآن شریف میں اُن کی وفات ظاہر کرتا ہے اور احادیث نبویہ میں صراحت سے لکھا گیا ہے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میں سے ہوگا۔ جیسا کہ موسی کے سلسلہ کا صحیح اُس قوم میں سے تھا نہ کہ آسمان سے آیا تھا۔ پس اس تفریط اور افراط کو دور کرنے کیلئے خدا نے یہ سلسلہ زمین پر قائم کیا جو باعث اپنی سچائی اور خوبصورتی اور اعتدال کے ہر ایک اہل دل کو پسند آتا ہے۔ غرض یہ پیشگوئی کہ ایک گروہ پرانے مسلمانوں میں سے اس سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگا اور ایک گروہ نئے مسلمانوں میں سے یعنی یورپ اور امریکہ اور دیگر کفار کی قوموں میں سے اس سلسلہ کے اندراپنے تئیں لائے گا۔ پچیس برس بعد اُس زمانہ سے کہ جب خبر دی گئی پوری ہوئی ۔ یا د رکھو کہ جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں عربی زبان میں اس پیشگوئی کے یہ لفظ ہیں جو وحی الہی نے میرے پر ظاہر کئے جو براہین احمدیہ حصص سابقہ میں آج سے پچپیش برس پہلے شائع ہو چکے ہیں ۔ ثلة من الاولين وثلة من الأخرین یعنی اس سلسلہ میں داخل ہونے والے دو فریق ہوں گے۔ ایک پرانے مسلمان جن کا نام اولین رکھا گیا جواب تک تین لاکھ کے قریب اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اور دوسرے نئے مسلمان جو دوسری قوموں میں سے اسلام میں داخل ہوں گے یعنی ہندوؤں اور سکھوں اور یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں میں سے۔ اور وہ بھی ایک گروہ اس سلسلہ میں داخل ہو چکا ہے اور ہوتے جاتے ہیں۔ اسی زمانہ کے بارے میں جو میرا زمانہ ہے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں خبر دیتا ہے جس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ آخری دنوں میں طرح طرح کے مذاہب پیدا ہو جائیں گے اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر حملہ کرے گا جیسا کہ ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے یعنی تعصب بہت بڑھ جائے گا اور لوگ طلب حق کو چھوڑ کر خواہ نخواہ اپنے مذاہب کی حمایت کریں گے۔ اور کینے اور تعصب ایسے حد اعتدال سے گذر جائیں گے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نگل لینا چاہے گی تب انہیں دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ سے اُس فرقہ کی حمایت کے لئے