براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 103

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۰۳ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور اس کے مقابل پر خود کھڑا ہو جاتا ہے۔ شریر انسان خیال کرتا ہے کہ میرے مکر دنیا کے دلوں پر بُرا اثر ڈالیں گے مگر خدا کہتا ہے کہ اے احمق! کیا تیرے مکر میرے مکر سے بڑھ کر ہیں؟ میں تیرے ہی ہاتھوں کو تیری ذلت کا موجب کروں گا اور تجھے تیرے دوستوں کے ہی آگے رسوا کر کے دکھلاؤں گا۔ اور اس جگہ مجھے یوسف قرار دینے سے ایک اور مقصد بھی مد نظر ہے کہ یوسف نے مصر میں پہنچ کر کئی قسم کی ذلتیں اٹھائی تھیں جو دراصل اُس کی ترقی مدارج کی ایک بنیاد تھی مگر اوائل میں یوسف نادانوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ہو گیا تھا اور آخر خدا نے اُس کو ایسی عزت دی کہ اُس کو اسی ملک کا بادشاہ بنا کر قحط کے دنوں میں وہی لوگ غلام کی طرح اس کے بنا دیئے جو غلامی کا داغ بھی اُس کی طرف منسوب کرتے تھے پس خدا تعالیٰ مجھے یوسف قرار دے کر یہ اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا۔ اسلام اور غیر اسلام میں روحانی غذا کا ۷۹ قحط ڈال دوں گا اور روحانی زندگی کے ڈھونڈنے والے بجز اس سلسلہ کے کسی جگہ آرام نہ پائیں گے اور ہر ایک فرقہ سے آسانی برکتیں چھین لی جائیں گی اور اسی بندہ درگاہ پر جو بول رہا ہے ہر ایک نشان کا انعام ہوگا پس وہ لوگ جو اس روحانی موت سے بچنا چاہیں گے وہ اس بندہ حضرت عالی کی طرف رجوع کریں گے اور یوسف کی طرح یہ عزت مجھے اسی توہین کے عوض دی جائے گی بلکہ دی گئی جس تو ہین کو ان دنوں میں ناقص العقل لوگوں نے کمال تک پہنچایا ہے۔ اور گوئیں زمین کی سلطنت کے لئے نہیں آیا مگر میرے لئے آسمان پر سلطنت ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی اور مجھے خدا نے اطلاع دی ہے کہ آخر بڑے بڑے مفسد اور سرکش تجھے شناخت کرلیں گے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ يَخِرُّون عَلَى الاذقان سُجَّدًا، ربنا اغفر لنا انا كنا خاطئين۔ لا تشريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمین ۔ اور میں نے کشفی طور پر ترجمہ ۔ ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ خدایا ہم خطا کار تھے ہم نے گناہ کیا۔ ہمارے گناہ بخش ۔ پس خدا فرمائے گا کہ تم پر کوئی سرزنش نہیں کیونکہ تم ایمان لے آئے خدا تمہارے گناہ بخش دے گا کہ وہ ارحم الراحمین ہے۔ اس جگہ بھی خدا نے لا تشریب کے لفظ کے ساتھ مجھے یوسف ہی قرار دیا۔ منہ