براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 102
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۰۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم (۷۸) مجھے یوسف قرار دے کر فرمایا قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے جو انسانوں کی گواہیوں پر غالب ہے پس کیا تم اس گواہی کو مانتے ہو یا نہیں؟ اس فقرہ سے یہ مطلب ہے کہ اے شرارتیں کرنے والو اور تہمتیں لگانے والو! اگر تم خدا کی اس گواہی کو قبول نہیں کرتے جو اُس نے آج سے پچیس سال پہلے دی تو پھر خدا کسی اور نشان سے گواہی دے گا جس سے تم ایک سخت شکنجہ میں پڑو گے تب رونا اور دانت پینا ہوگا۔ پس میں دیکھتا ہوں کہ خدا کی دوسری گواہیاں بھی شروع ہوگئیں اور مجھے خدا نے اپنے الہام سے یہ بھی خبر دی ہے کہ جو شخص تیری طرف تیر چلائے گا میں اُسی تیر سے اس کا کام تمام کروں گا۔ اور اس وحی الہی میں جو مجھے یوسف قرار دیا گیا ہے یہ بھی ایک فقرہ ہے کہ ولتنذر قوما ما انذر اباء هم فهم غافلون اس آیت کے معنے پہلی آیت کو ساتھ ملانے سے یہ ہیں کہ ہم نے اس یوسف پر احسان کیا کہ خود اس کی بریت کی شہادت دی تا وہ بُرائی اور بے حیائی جو اس کی طرف منسوب کی جائے گی اس کو ہم اُس سے پھیر دیں اور دفع کر دیں اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ تا انذار اور دعوت میں حرج نہ آوے کیونکہ خدا کے رسولوں اور نبیوں اور ماموروں پر جو یہ اندھی دنیا طرح طرح کے الزام لگاتی ہے اگر ان کو دفع نہ کیا جائے تو اس سے دعوت اور انذار کا کام سُست ہو جاتا ہے بلکہ رک جاتا ہے اور ان کی باتیں دلوں پر اثر نہیں کرتیں اور معقولی رنگ کے جواب اچھی طرح دلوں کے زنگ کو دور نہیں کر سکتے ۔ پس اس سے اندیشہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بدگمانیوں سے ہلاک نہ ہو جائیں اور ہیزم دوزخ نہ بن جائیں۔ لہذا وہ خدا جو کریم اور رحیم ہے جو اپنی مخلوق کو ضائع کرنا نہیں چاہتا اپنے زبر دست نشانوں کے ساتھ اپنے نبیوں کی صفائی اور اصطفاء اور اجتباء کی شہادت دیتا ہے اور جو شخص ان گواہیوں کو پا کر بھی اپنی بدظنیوں سے باز نہیں آتا اُس کے ہلاک ہونے کی خدا کو کچھ بھی پر وا نہیں ۔ خدا اُس کا دشمن ہو جاتا ہے