براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 101

روحانی خزائن جلد ۲۱ 1+1 براہین احمدیہ حصہ پنجم ☆ کہ خدا کی شہادت اور انسان کی شہادت برابر نہیں ہو سکتی۔ پس وہ شہادت یہی شہادت ہے کہ وہ جو عالم الغیب ہے وہ پچیس سال پہلے اس زمانہ سے مجھے یوسف قرار دے کر اس کے واقعات میرے پر منطبق کرتا ہے اور ایسی خصوصیت کے الفاظ بیان فرماتا ہے جس سے حقیقت کھلتی ہے جیسا کہ اس کا میری طرف سے یہ فرمانا کہ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِی إِلَيْهِ ظاہر کر رہا ہے کہ کسی آئندہ واقعہ کی طرف یہ اشارہ ہے لیکن چونکہ یوسف بھی شریر لوگوں کی بدگمانیوں سے نہیں بچ سکا تو پھر ایسے لوگوں پر مجھے بھی افسوس کرنا لا حاصل ہے جو میرے پر بد گمانی کریں۔ ہر ایک جو مجھ پر حملہ کرتا ہے وہ جلتی ہوئی آگ میں اپنا ہاتھ ڈالتا ہے کیونکہ وہ میرے پر حملہ نہیں بلکہ اُس پر حملہ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے وہی فرماتا ہے کہ انی مهین من اراد اهانتک یعنی میں اُس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلّت چاہتا ہے ایسا شخص خدا تعالیٰ کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ۔ یہ مت گمان کرو کہ وہ میرے لئے نشانوں کا دکھلا نا بس کر دے گا۔ نہیں بلکہ وہ نشان پر نشان دکھلائے گا اور میرے لئے اپنی وہ گواہیاں دے گا جن سے زمین بھر جائے گی۔ وہ ہولناک نشان دکھلائے گا اور رعب ناک کام کرے گا۔ اس نے مدت تک ان حالات کو دیکھا اور صبر کرتا رہا مگر اب وہ اس مینہ کی طرح جو موسم پر ضرور گر جتا ہے گرجے گا اور شریر روحوں کو اپنے صاعقہ کا مزا چکھائے گا۔ وہ شریر جو اس سے نہیں ڈرتے اور شوخیوں میں حد سے بڑھ جاتے ہیں وہ اپنے ناپاک خیالات اور بُرے کاموں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں مگر خدا انہیں دیکھتا ہے کیا شریر انسان خدا کے ارادوں پر غالب آ سکتا ہے؟ کیا وہ اس سے لڑ کر فتح پاسکتا ہے ؟ اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت که اِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ " بآواز بلند بتلا رہی ہے کہ فرعونی صفات لوگ اپنی بیجا تہمتوں پر فخر کریں گے مگر خدا اپنے بندہ کو نجات دے گا پھر حملہ کرنے والوں کے آگے ایک دریا ہے جس میں اُن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ منہ يوسف : ۳۴ الشعراء: ٦٣