براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 98
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۹۸ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ میں اپنی بریت کیلئے خدا تعالیٰ کی گواہی اپنے پاس رکھتا ہوں پس کیا تم اس گواہی کو قبول کرو گے یا نہیں؟ اور یہ بھی ان کو کہہ دے کہ میں تمہاری کسی تہمت سے ملزم نہیں ہو سکتا کیونکہ ☆ میرے ساتھ میرا خدا ہے۔ وہ میری بریت کے لئے کوئی راہ پیدا کر دے گا ۔ یادر ہے کہ جب یوسف بن یعقوب پر زلیخا نے بیجا الزام لگایا تھا تو اُس موقعہ پر خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا ۔ یعنی زلیخا کے قریبیوں میں سے ایک شخص نے یوسف کی بریت کی گواہی دی۔ مگر اس جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس یوسف کے لئے خود گواہی دوں گا پس اس سے زیادہ اور کیا گواہی ہوگی کہ آج سے پچپیش برس پہلے خدا تعالیٰ نے ان تہمتوں کی خبر دی ہے جو ظالم اور شریر لوگ مجھ پر لگاتے ہیں۔ اور یوسف بن یعقوب کے لئے صرف ایک انسان نے گواہی دی مگر میرے لئے خدا نے پسند کیا کہ خود گواہی دے اور یوسف بن یعقوب پر تہمت لگانے کے لئے ایک عورت نے پیش دستی کی مگر میرے پر وہ لوگ تہمتیں لگاتے ہیں جو عورتوں سے بھی کمتر ہیں۔ اور اِن كَيْدَ كُنَّ عَظِیم کے مصداق ہیں۔ پھر اس پیشگوئی کے آخری حصہ کی یہ عبارت ہے۔ رَبِّ الجُنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدُعُوْنَنِي إِلَيْهِ یعنی اے میرے رب مجھے تو قید بہتر ہے اُن باتوں سے کہ یہ عورتیں مجھ سے خواہش یہ آیت یعنی ان مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ میرے ساتھ میرا خدا ہے۔ ومخلصی کی کوئی راہ دکھلا دے گا۔ یہ قرآن شریف میں حضرت موسیٰ کے قصہ میں ہے جب کہ فرعون نے ان کا تعاقب کیا تھا اور بنی اسرائیل نے سمجھا تھا کہ اب ہم پکڑے گئے ۔ پس خدا تعالی اشارہ فرماتا ہے کہ ایسے کمزور اس جماعت میں بھی ہوں گے جن کی تسلی کے لئے کہا جائے گا کہ گھبراؤ مت۔ خدا تمہیں ان تہمتوں سے بریت حاصل کرنے کے لئے کوئی راہ دکھا دے گا جیسا کہ اس نے یوسف بن یعقوب کو دکھلا دی جب کہ ایک مکارہ عورت نے پیش دستی کر کے خلاف واقعہ با تیں یوسف کی نسبت اپنے خاوند کو سنائیں ۔ منہ يوسف : ۲۷ يوسف : ٢٩ الشعراء : ٦٣