براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 97
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۹۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم اول وہ عیب گیر اور نکتہ چین اور بدگمان لوگوں کو پورے طور پر موقعہ دیتا ہے کہ تا وہ جو چاہیں بکواس کریں اور جس طرح چاہیں کوئی تہمت لگاویں یا بہتان باندھیں۔ پس وہ لوگ بہت خوش ہو کر حملے کرتے ہیں اور اپنے حملوں پر بہت بھروسہ کرتے ہیں یہاں تک کہ صادقوں کی جماعت ایسے حملوں سے ڈرتی ہے اور انسانی کمزوری کی وجہ سے اس بات سے نومید ہو جاتے ہیں کہ بارانِ رحمت الہی اس مفتر یا نہ داغ کو دھو دے اور خدا تعالیٰ کی بھی یہی عادت ہے کہ بارانِ رحمت نازل تو کرتا ہے اور اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے لیکن اول کسی مدت تک لوگوں کو نومید کر دیتا ہے تا وہ لوگوں کے ایمان کی آزمائش کرے۔ پس اسی طرح خدا تعالیٰ کے نبی اور مرسل پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ آزمائے جاتے ہیں۔ شریر لوگوں کی طرف سے بہت ہیجا حملے خدا تعالیٰ کے نبیوں پر ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ فاسق اور فاجر ٹھہرائے جاتے ہیں اور خدا تعالی کی عادت اسی طرح پر واقعہ ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو اعتراض کرنے کے لئے بہت سی گنجائش دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نکتہ چینی اور عیب گیری کی باتوں کو بہت قوی سمجھنے لگتے ہیں اور اُن پر خوش ہوتے اور اتراتے ہیں اور مومنوں کے دلوں کو ان باتوں سے بہت صدمہ پہنچتا ہے یہاں تک کہ اُن کی کمر ٹوٹتی ہے اور وہ سخت طور پر آزمائے جاتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کی نصرت کا مینہ برستا ہے اور تمام افتراؤں کے ورق کو دھو ڈالتا ہے اور اپنے نبیوں کے اجتباء اور اصطفاء کے مرتبہ کو ثابت کر دیتا ہے۔ خلاصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ اسی طرح اس یوسف کی ہم بریت ظاہر کریں گے کہ اوّل شریر لوگ بیجا تہمتیں اُس پر لگائیں گے جیسا کہ یوسف بن یعقوب پر تہمت لگائی گئی تھی لیکن آخر خدا نے ایک شخص کو اُس کی بریت کیلئے ایک گواہ ٹھہرایا اور اُس گواہی نے یوسف کو اُس تہمت سے بری کر دیا ۔ پس خدا فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا۔ قل عندی شهادةً من الله فهل انتم مؤمنون۔ ان معی ربی سیهدین ۔ یعنی اے یوسف جو لوگ تیرے پر الزام لگاتے ہیں اُن کو کہہ دے