براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 96
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۹۶ براہین احمدیہ حصہ پنجم مجھے قبول کر لیا اور یہ ملک ہماری جماعت سے بھر گیا۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ملک عرب اور شام اور مصر اور روم اور فارس اور امریکہ اور یورپ وغیرہ ممالک میں یہ تختم بویا گیا اور کئی لوگ ان ممالک سے اس سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ وقت آتا جاتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ ان مذکورہ بالا ممالک کے لوگ بھی اس نور آسمانی سے پورا حصہ لیں گے۔ نادان دشمن جو مولوی کہلاتے تھے اُن کی کمریں ٹوٹ گئیں اور وہ آسمانی ارادہ کو اپنے فریبوں اور مکروں اور منصوبوں سے روک نہ سکے اور وہ اس بات سے نومید ہو گئے کہ وہ اس سلسلہ کو معدوم کر سکیں اور جن کاموں کو وہ بگاڑ نا چاہتے تھے وہ سب کام درست ہو گئے ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِک پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ آئندہ زمانہ کے لوگوں کی بیجا تہمتوں کی نسبت ایک خاص پیشگوئی کر کے مجھے یوسف قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے: هو الذي ينزل الغيث من بعد ما قنطوا وينشر رحمته يجتبى اليه من يشاء من عباده وكذالك مننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء ولتنذر قومًا ما أنذراباء هم فهم غافلون۔ قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ان معى ربي سيهدين ۔ رب السجن احب الى ممّا يدعوننى اليه ۔ ربّ نجني من غمى۔ ان آیات کو جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۶ سے ۵۵۴ تک درج ہیں میں ابھی پہلے بھی لکھ چکا ۵ ہوں مگر صفائی بیان کے لئے دوبارہ موقع پرلکھی گئیں تا پیشگوئی کے معنی سمجھنے میں کچھ وقت نہ ہو۔ ترجمہ اس وحی الہی کا یہ ہے ۔ خدا وہ خدا ہے جو بارش کو اُس وقت اُتارتا ہے۔ جبکہ لوگ مینہ سے نومید ہو جاتے ہیں تب نومیدی کے بعد اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔ اور جس بندہ کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے رسالت اور نبوت کے لئے چن لیتا ہے۔ اور ہم نے اسی طرح اس یوسف پر احسان کیا تا ہم دفع کریں اور پھیر دیں اُس سے اُن بُرائی اور بے حیائی کی باتوں کو جو اُس کی نسبت بطور تہمت تراشی جائیں گی۔ یعنی خدا تعالیٰ کا کسی تہمت اور الزام کے وقت جو اُس کے نبیوں اور رسولوں کی نسبت کی جاتی ہیں یہ قانونِ قدرت ہے کہ