براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 74

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۷۴ براہین احمدیہ حصہ پنجم صورت پیدا ہوگئی جس کے ثابت کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ بدیہی امر ہے پھر دوسری پیشگوئی یہ تھی کہ ہر طرف سے مالی امداد آئے گی یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آچکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے اس کے ثبوت کیلئے ڈاکخانجات کے رجسٹر کافی ہیں اور پھر تیسری پیشگوئی یہ تھی کہ لوگ کثرت سے آئیں گے۔ سواس قدر کثرت سے آئے کہ اگر ہر روزه آمدن اور خاص وقتوں کے مجمعوں کا اندازہ لگایا جائے تو کئی لاکھ تک اُس کی تعداد پہنچتی ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کو محکمہ پولیس کے وہ ملا زم خوب جانتے ہیں جن کو اس طرف خیال رکھنے کا حکم ہے اور نیز قادیان کے تمام لوگ جانتے ہیں ۔ اور پھر چوتھی پیشگوئی یہ تھی کہ خدا فرماتا ہے کہ لوگوں کے حملوں سے ہم بچائیں گے اور تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے سو اس کا ظہور بھی ہو چکا۔ چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ میں یہ ارادہ کیا گیا تھا کہ میں پھانسی دیا جاؤں اور کرم دین جس نے ناحق بے موجب مجھ پر (۵۸) فوجداری مقدمے کئے اُس کا بھی یہی ارادہ تھا کہ میں کسی طرح سخت قید کی سزا پاؤں اور وہ اس مقدمہ بازی میں اکیلا نہ تھا بلکہ کئی مولوی اور حاسد دنیا دار اس کے ساتھ شریک تھے اور اس کیلئے چندے ہوتے تھے۔ سوخدا نے مجھے بچالیا اور اپنی پیشگوئیوں کو سچا کر کے دکھلا دیا۔ پھر پانچویں پیشگوئی یہ تھی کہ خدا دنیا میں عزت کے ساتھ تجھے شہرت دے گا۔سواس کا پورا ہونا محتاج بیان نہیں۔ چھٹی پیشگوئی یہ تھی کہ اس قدر لوگ آئیں گے کہ عنقریب ہے کہ تو اُن کی ملاقات سے تھک جائے یا کثرت مہمانداری کی وجہ سے بدخلقی کرےسواس پیشگوئی کا وقوع نہایت ظاہر ہے اور جن لوگوں کو قادیان میں آنے کا اتفاق ہوتا رہا ہے وہ کثرت آمد مہمانوں کو دیکھ کر گواہی دے سکتے ہیں کہ واقعی بعض اوقات اس کثرت سے مہمان جمع ہوتے ہیں اور اس کثرت سے ملاقاتوں کی کشمکش ہوتی ہے کہ اگر یہ وصیت ہر وقت ملحوظ نہ ہو تو ممکن ہے کہ ضعف بشریت بدخلقی کی طرف مائل کر دیوے یا مہمانداری میں فتور پیدا ہو جائے۔سب کے ساتھ خوش خلقی سے مصافحہ کرنا اور باوجود صد با لوگوں کے اجتماع کے ہر ایک کے ساتھ پورے اخلاق سے پیش آنا بجز خدا کی مدد کے ہر ایک کا کام نہیں۔ ساتویں پیشگوئی اُن اصحاب الصفہ کی