براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 733 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 733

۔ُتو تو ایک کانٹے کی وجہ سے سینکڑوں چیخیں مارتا ہے اور عاشق اپنی جان قربان کر کے بھی ہنستے رہتے ہیں۔عاشق مولیٰ کی عظمت میں فنا ہیں اور وفاداری کی وجہ سے دریائے توحید میں غرق ہیں۔ان کی دشمنی اور دوستی سب خدا کے لئے ہے اگر ان کو غصہ بھی آتا ہے تو وہ خدا ہی کا غصہ ہے صفحہ ۶۳۱۔جو خدا کے عشق میں فانی اور محو ہے جو کچھ بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ ذاتِ کبریا ہی کی طرف سے ہے۔وہ فانی ہے اور اس کا تیر خدا کا تیر ہے اور اس کا شکار دراصل خدا کا شکار ہے۔خدا تعالیٰ کی جو صفات ہیں وہ پاک ذات اُن صفات کو فانی فی اللہ لوگوں میں خود پھونک دیتا ہے۔خدا کی صفات اُن سے ظاہر ہونے لگتی ہیں خواہ وہ جمالی ہوں یا جلالی۔ان کا لطف خدا کا لطف ہے اور ان کا قہر خدا کا قہر ہو جاتا ہے دوسروں کی طرح ان کا معاملہ نہیں ہے۔یہ فانی لوگ اپنی خودی سے بالکل دور ہیں وہ فرشتوں کی طرح خدائے منصف کے کارندے ہیں۔اگر فرشتہ کسی کی جان نکالتا ہے یا کسی کمزور پر مہربانی کرتا ہے۔تو یہ سختی اور نرمی خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے- فرشتہ تو اپنی نفسانی خواہشوں سے بالکل الگ ہے۔انبیاء کے مقام کی بھی یہی مثال سمجھ۔وہ واصل باللہ ہیں اور اس کے غیر سے بے تعلق۔وہ فنافی اللہ ہیں اور خدا کا ہتھیار ہیں۔انسانی جامہ میں خدا کا نور ہیں۔بارگاہ الٰہی کے گنبد میں بالکل مخفی ہیں خودی سے الگ ہو کر خدائی رنگ وروپ میں زندگی بسر کرتے ہیں۔حسن اور دبدبہ کے آسمان کے ستارے ہیں اور لوگوں کی آنکھوں سے دور چلے گئے ہیں۔کوئی ان کے نور کی قدر سے باخبر نہیں ہے کیونکہ ادنیٰ کو اعلیٰ تک رسائی نہیں ملتی۔اندھا اندھے پن کی وجہ سے ذلیل رائے دیتا ہے کیونکہ اُس کی نابینا آنکھیں اُس روشنی سے ناآشنا ہیں۔اس طرح ُ تو بھی اے مصطفی کے دشمن اپنی نابینائی کو ہم پر ظاہر کرتا ہے۔جیسا کہ کتے کی عادت ہوتی ہے کہ چاند پر بھونکتا ہے مگر اس کتے پن سے چاند کا نور کم نہیں ہو سکتا صفحہ ۶۳۲۔مصطفی تو خدا کے چہرہ کا آئینہ ہیں۔اُن میں خدا تعالیٰ کی ہی تمام صفات منعکس ہیں