براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 729 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 729

۔اے دلبر تو بے حد لطیف ہے میرے ہر رگ وریشہ میں داخل ہو جاتا کہ جب تجھے اپنے اندر پاؤں تو اپنا دل چمن سے بھی زیادہ خوشتر کروں۔اور اے نیک صفات اگر تو انکار کرے تو تیرے فراق میں جان دے دوں گا اور اتنا روؤں گا کہ ایک عالم کو رُلا دوں گا۔خواہ توتو مجھے ناراض ہو کر جدا کر دے خواہ لطف فرما کر اپنا چہرہ دکھا دے خواہ مار یا چھوڑ میں تیرے دامن کو نہیں چھوڑ سکتا صفحہ ۶۲۳۔اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آگیا اور اب وہ وقت آرہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر ان کا قدم پڑے گا۔صفحہ ۶۲۶۔اے خدا!اے ہمارے دکھوں کی دوا! اور اے ہماری گریہ وزاری کا علاج !۔تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے اور تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے۔تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب بوجھ اٹھا لئے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پھل تیرے فضل سے ہے۔تو ہی مہربانی اور عنایت سے ہمارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمال مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے۔جب بندہ مغموم اور در ماندہ ہو جاتا ہے تو ُتو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے۔جب کسی عاجز کو رستے میں اندھیرا گھیر لیتا ہے تو ُتو یکدم اس کے لئے سینکڑوں سورج اور چاند پیدا کر دیتا ہے۔حسن واخلاق اور دلبری تجھ پر ختم ہیں تیری ملاقات کے بعد پھر کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے۔وہ عقلمند ہے جو تیرا دیوانہ ہے اور وہ شمع بزم ہے جو تیرا پروانہ ہے۔ہر وہ شخص جس کے جان ودل میں تیرا عشق داخل ہو جائے تو اس کے ایمان میں فوراً جان پڑ جاتی ہے۔تیرا عشق اس کے چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے درو دیوار سے تیری خوشبو آتی ہے۔تو اُس کو اپنے کرم سے لاکھوں نعمتیں بخشتا ہے۔سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے۔تو اُس کی نصرت کے لئے خود تیار ہو جاتا ہے اور اُس کے دیدار سے تیرا چہرہ یاد آتا ہے