براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 708
۔جب وہ پاک نور ان میں رچ گیاتو پردہ میں سے بدر کامل چمکا۔وہ ظلمت کے حجابوں سے دور ہو گیا اور سراسر نورانی وجود بن گیا۔اُن کے دل کو ایک مخفی کشش سے خدا کے عشق کی طرف مائل کر دیا۔عشق نے اتنا تیز گھوڑا دوڑایا کہ اس مُشتِ خاک کا کچھ بھی باقی نہ رہا۔نہ خودی رہی نہ حرص وہوا ہی رہی گویا کسی کا سر خاک اور خون میں پڑا ہو۔وہ خدا کے جلال کے عاشق ہیں اور خدا کی نہر کے مصفّٰی پانی کے طالب۔عشق سے بھر گئے اور ہر لالچ سے خالی ہو گئے۔عشق نے ان کو قتل کر دیا اور ان کی آواز بھی نہ نکلی۔اپنے وجود کی آلودگی سے پاک ہو گئے اور اپنی خود پرستی کی قید سے آزاد۔یار نے ان کو اس طرح اپنی کمند میں جکڑ لیا کہ اور کسی سے اُن کا تعلق نہیں رہا صفحہ ۳۶۱۔نیستی کی راہ پر چل پڑے اور خدا کی یادمیں سر سے پیر تک غرق ہو گئے۔محبوب کا ذکر ان کی زندگی کی لطیف غذا ہے یہی ان کی زندگی کا مقصود اور حیات کا خلاصہ ہے۔سوائے دلدار کے انہوں نے ہر غرض کو جلا ڈالا اور محبوب کے سوا ہر طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ایک ہی صورت پر اپنا دل وجان تصدق کر دیا اور اُسی کے وصل کو اپنا اصلی مقصد بنا لیا۔مر گئے اور اپنے تئیں فنا کر دیا۔عشق جوش میں آیا اور اس نے بڑے بڑے کام کئے۔خودی کے مقام سے جدا ہو گئے۔محبت کی رَو زور کی تھی۔بہا کر لے گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے خدا کے نور کو پالیا۔جب خودی چلی گئی تو خدا ظاہر ہو گیا۔جب جسم کمزور ہو گیا تو محبوب آگیا۔جب دل ہاتھ سے نکل گیا تو جان یعنی محبوب مل گیا۔دلبر کی محبت ان کے چہرے پر ظاہر ہو گئی اور رحمت کا ابر ان کے گلی کوچوں میں برسا۔اس پاک قوم کی وہ عزت ہے کہ ساری دنیا بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔جب وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو خدائی فیوض کے مورد بن جاتے ہیں۔اگر خدا سے کسی راز کا کشف چاہتے ہیں تو حضور خداوندی سے الہام کئے جاتے ہیں