براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 700 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 700

۔خبردار ہو کہ یہ دنیا تو سرائے فانی ہے باخدا بن جا کیونکر آخر کو خدا سے ہی معاملہ پڑے گا۔اگر تو اپنے ہاتھ سے ہی زہر قاتل کھالے تو میں کیونکر سمجھوں کہ تو عقلمند ہے۔ان لوگوں کو دیکھ جو فانی ہیں اور خدا کے کلام پر جان چھڑکتے ہیں۔نام، عزت اور وجاہت سے فارغ ہو گئے۔دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گر گئی۔خودی سے دور ہو کر یار سے واصل ہو گئے اور اس (حسین) چہرہ کی خاطر عزت وآبرو کی پروا نہ کی۔ان کو دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے کیونکہ وہ خدائے کبریا کی جناب میں راستباز ہیں صفحہ ۱۷۶۔تیرا تو سر تکبر سے آسمان تک پہنچا ہے اور بندوں کے راستہ کو تو نے چھوڑ دیا ہے۔جب تک تیرے نفس میں عاجزی پیدا نہ ہو گی۔تب تک خدائی نور اس پر کیونکر روشنی ڈالے گا۔تو خود سوچ! جب تک دانہ زمین میں داخل ہو کر مرے گا نہیں۔تب تک ایک سے سوکیونکر بنے گا؟۔نیست ہو جا تا کہ تجھ پر فیضان نازل ہو۔جان قربان کرتا کہ دوسری زندگی ملے۔جب تک تو کمزور عاجز اور مضطر نہیں تب تک اس رہبر کے فیضان کے قابل بھی نہیں۔ایمان کیا ہے؟ خدا کو ایک یقین کرنا اور خدا کے کام کو خدا ہی کے سپرد کرنا۔جب ُتو نے اسی کے سکھائے علم سے عقل کو پایا۔پھر اس کی تعلیم سے کیوں روگردان ہے۔اپنے سینہ کو روشن نہ سمجھ جو کچھ بھی روشن ہے وہ آسمان ہی کی بدولت ہے۔وہ آنکھ نابینا ہے جس میں یہ نور نہیں اور وہ سینہ قبر ہے جو شک سے خالی نہیں۔صالح، صادق اور متقی ان سب لوگوں نے خدا کی وحی سے ہی سیدھا راستہ پایا۔وہ کون سی عقل ہے جو خود اس کی معرفت رکھتی ہے۔یہ وہی سمجھ سکتا ہے جسے خدا خود سمجھائے۔اس کی وحی کے بغیر عقل تیرے راستے میں ایک بت کی طرح ہے اور تو صبح وشام بت پرستی کر رہا ہے۔اگر تیری آنکھوں کے سامنے یہ بت ظاہر ہو جاتا تو تیری آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر جاری ہو جاتی۔لیکن بدقسمتی ہے کہ تیری آنکھ ہی نہ رہی اور بت پرستی نے آخر کار تجھے بھی بت کی طرح بٹھا دیا۔خدائی اسرار سمجھنے میں عقل بہت کمزور ہے جو بات گاہ گاہ اسے مل جاتی ہے وہ بھی خدا ہی کی طرف سے ہے