براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 699 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 699

۔جس نے ہمارے بدن پر کمال درجہ کی مہربانی کی ہے وہ ہماری جان کو کب اپنے کرم سے محروم کر سکتا ہے۔قرآن کی وحی خدا کی ایک کشش ہے تا کہ وہ تجھے نفسانیت سے روحانیت کی طرف لے جائے۔قرآن اندرونی شرک کو دور کرتا ہے تا کہ تو خدا کا نشان خدا کی طرف سے ہی پائے۔تا کہ تو تکبر خود بینی اور فخر سے نجات پائے اور اس کار ساز کے فضل کا ہی ممنون ہو۔کبر سے دور ہو کہ اُسے تجھ پر رحم آئے۔بندگی کر کیونکہ اُسے تو بندگی درکار ہے صفحہ ۱۷۵۔زندگی تو مرنے عاجزی اور رونے سے ہے جو) اس کے آگے(گر گیا وہی نجات پائے گا۔نیستی کا جام ہی) اصل میں (آبِ حیات ہے جس نے وہ پی لیا وہ موت سے خلاصی پا گیا۔عقلمند وہ ہے جو خدا کو تلاش کرتا ہے اور اپنا سارا معاملہ عجز ونیاز سے نکالتا ہے۔اُس عقل ودانش سے بیوقوفی اچھی جو تجھے کبر ونخوت کے کنوئیں میں ڈال دے۔خدا کا طالب ہو اور خودی سے باہر آاور خدا کے لئے خود روی کو ترک کر۔میں نہیں جانتا کہ یہ کون سا دین وایمان ہے کہ ناپاک انسان خدا کے مقابلے میں دعویٰ کرے۔تو کہاں اور وہ قادر مطلق کہاں ! توبہ کر اور ایسی بیوقوفیاں ظاہر نہ کر۔اگر خدا کے فیض کا چھینٹا ایک لمحہ کے لئے کم ہو جائے۔تو یہ تمام خلقت اور جہان زیرو زبر ہو جائے۔تو ایک حقیر سی ہستی ہے بڑائی کی لاف نہ مار۔اور اپنی چادر سے پاؤں باہر نہ نکال۔بندہ وہ ہے جو خدا کے سامنے ہیچ ہے، عارف وہ ہے جو اسے لاثانی کہتا ہے۔تو نے اپنے تئیں نیک خیال کر لیا ہے خدا تجھے ہدایت دے۔کیسا غلط سمجھا ہے۔تو اتنا اونچا اونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید تو اس بے مثل ذات کا منکر ہے۔دنیائے ہستی کی بنیاد کو تو نے کیا سمجھا ہے؟ کیا تجھے یہ سرائے فانی اچھی لگنے لگی۔عاقل اس سے کیوں دل لگائے جب کہ اچانک اس سے نکلنا پڑے گا۔دنیا کے لئے خدا سے تعلق توڑنا یہی بدبختوں کی علامت ہے۔جب خدا کی کسی پر مہربانی ہوتی ہے تو اس کا دل دنیا سے اکھڑ جاتا ہے