براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 698
۔وہ بزرگ ذات عاجزوں کی پرورش کرتی ہے اور سرکش ہمیشہ محروم ومردود رہتے ہیں۔جب تک تو سورج کی روشنی کے سامنے نہیں آتا تو پردہ کے پیچھے تجھ پر اُس کی روشنی کیوں کر پڑ سکتی ہے۔اے عزیز ! تیری ہتھیلی میں تو کھاری پانی ہے اگر کچھ تمیز ہے تو اس پر فخر نہ کر صفحہ ۱۷۴۔زندگی بخش پانی تو محبوب سے ملے گااگر زندگی درکار ہے تو جا اور اُس سے مانگ۔وہ آبِ حیات بالکل مخفی ہے اور اس کا راستہ خدائی چراغ کے بغیر کسی نے نہیں دیکھا۔وہ خیالات جو تو اپنی عقل سے معلوم کر لیتا ہے۔اُن کی روشنی بھی خدا کی وحی سے ملتی ہے۔لیکن چونکہ تیری روحانی آنکھ کھلی ہوئی نہیں اس لیے تیرا دل اس راز سے واقف نہیں۔تو خدا کا نافرمان ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میں دانا ہوں اور اس کی وحی کی مجھے ضرورت نہیں میں عقل رکھتا ہوں۔مگر تیری لغزش تجھے حاجتمند بنا دے گی اور دم بھر میں تیری عقل کی قلعی کھول دے گی۔تیری عقل باہر سے پختہ مقبرہ کی مانند خوشنما ہے مگر اس کے اندر کیاہے؟ ایک گندی لاش۔خدا کی تعلیم ہی عقل کو کمال تک پہنچاتی ہے اور انبیاء سے ہی ہر صداقت کا ظہور ہوتا ہے۔جس نے کچھ حاصل کیا وہ تعلیم سے حاصل کیا وہ منہ روشن ہو گیا جس نے خدا سے رخ نہ پھیرا۔وقت زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ اے تھوڑی عمر والے انسان! استاد پکڑ۔ناقصوں کے خیالات بھی ناقص ہی ہوتے ہیں اگر تیرے کان ہیں تو یہی ایک لفظ نصیحت کے لئے کافی ہے۔خدا غلطی سے پاک اور تو غلطیوں کی پوٹ ہے۔جھگڑا نہ کر بلکہ حق پر قائم رہ۔تیری عقل حرص وہوا کی مغلوب ہے اور مغلوب پر بھروسہ کرنا بدبختوں کا کام ہے۔تو ہر کس وناکس سے علم سیکھتا رہتا ہے مگر اس لاثانی حکیم سے سیکھنے میں تجھے شرم آتی ہے۔تو نے تکبر کی وجہ سے حق کا راستہ چھوڑ دیا۔یہ تو نے کیا کیا! یہ تو نے کیسا بیج بویا!۔اے ظالم یہی تو وہ ہمارا آقا ہے جس کی عطا سے یہ سب آسمان اور زمین (کی نعمتیں ) ہیں۔جس نے بادل، بارش، چاند اور سورج پیدا کئے اور گرمی سردی کو ظاہر کیا۔تا کہ ہم اُس کے فضل سے اپنی خوراک کھاتے رہیں اور زندہ رہیں اور اپنی پرورش کریں