براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 697
۔عشق تو دوست کے کلام کو چاہتا ہے جا اور عاشق سے اس راز کو پوچھ۔یہ نہ کہہ کہ چونکہ ہم اُس کی درگاہ سے دور ہیں اس لئے اُس کا تعلق ہماری ُمشتِ خاک سے نہیں ہو سکتا۔اس بات کو وہی جانتا ہے جو روشن ضمیر ہے کہ خدا کی طلب انسان کی فطرت میں داخل ہے صفحہ ۱۷۳۔خدا کے بغیر انسان کا دل تسلی نہیں پاتا۔ابتدا سے آدمی کی یہی فطرت ہے۔محبوب کے کلام کے سوا دل کو صبر نہیں آتا۔ازل سے خدا نے یہ بیج اس کی فطرت میں بویا ہے۔وہ خدا جس نے انسان کو ایسی فطرت دی وہ کس طرح اس کی فطرت کے اس کمال کو برباد کر دیتا۔خدا کا کام انسان سے کیونکر ہو سکتا ہے۔ایک کیڑے سے خدائی کام کب ہو سکتے ہیں۔ہم سب جہل محض ہیں۔اور وہی واقفِ اسرار ہے ہم سب اندھے ہیں اور وہی ایک بینا ہے۔خدا کے مقابل پر عقلمندی کا دعویٰ کرنا۔سخت جہالت اور دیوانہ پن ہے۔روشن سورج سے منہ پھیر لینا اس خیال سے کہ میں اپنے اندر سے آپ ہی روشنی نکال لوں گا۔اس خیال نے ایک دنیا کو اندھا اور بہرا کر دیا ہے۔اور انہیں گمراہی کے کنوئیں میں ڈال دیا ہے۔اگر کچھ عقل ہے تو اس عقل پر ناز نہ کر۔تیرے راستے میں یہ عقل ایک بُت ہے۔تکبر سے ملی ہوئی وہ عقل جو لوگ رکھتے ہیں محض بیوقوفی ہے۔پھر بھی لوگ اسے عقل سمجھتے ہیں۔تکبر عقل کے شہر کو ویرانہ کر دیتا ہے اور عقلمندوں کو گمراہ اور بیوقوف بنا دیتا ہے۔جو چیز غرور اور تکبر کو بڑھاتی ہے اے گمراہ ! وہ تجھے خدا تک کیوں کر پہنچا سکتی ہے۔خود روی تجھے شرک میں ڈال دے گی۔اے ریاکار! خود روی سے توبہ کر۔مشرک سعادت سے بہت دور ہے۔اور خدا کی دائمی رحمتوں سے پرے پھینکا گیا ہے۔خدا کی مدد سے ہی خدا کو پاسکتے ہیں۔نہ کہ چالاکی، حیلہ اور مکروفریب کے ساتھ۔جب تک تو چھوٹے بچے کی طرح خدا کے سامنے نہ آئے گاتب تک تیرا جام صرف تلچھٹ سے ہی بھرا رہے گا۔خدا کے فیضان کے لیے عجزو نیاز شرط ہے۔کسی نے پانی کو اونچی جگہ ٹھہرتے نہیں دیکھا۔خدا کو عاجزی پسند ہے وہاں فخر کام نہیں آتا اپنے پروں سے اس تک اڑ کر نہیں پہنچ سکتے