براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 696
۔وہ جس نے گھوڑے، گائے اور گدھے کو پیدا کیاتا کہ تیری پیٹھ کو سخت بوجھ سے نجات دے صفحہ ۱۷۲۔وہ تجھ کو آخرت کے معاملہ میں کیوں پریشان چھوڑ دے تعجب ہے کہ عقلمند ہو کر تو یہ اعتقاد رکھتا ہے۔اے بے خبر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں۔پھر دیکھنے کے وقت ایک کو کیوں بند کر لیتا ہے۔وہ ذات جس سے ہر قسم کی قدرت ظاہر ہوئی تو بولنے کی قوت کس طرح مخفی رہ سکتی تھی۔وہ ہستی جس کی ہر پاک صفت ظاہر ہو گئی۔پھر اس کی یہ صفت کیونکر چھپی رہ سکتی تھی۔ہر شخص جو خدا کی یاد سے غافل ہو۔تو خدا کا پیغام ہی اس کی غفلت کا چارہ ساز ہوتا ہے۔تو خدا کے پیغام پر تعجب کرتا ہے۔اے متکبر! یہ تیری عقل اور سمجھ کیسی ہے۔اُس کی مہربانی نے جب مٹی کے پتلے کو عشق بخشاتو وہ اپنے عاشقوں کو کیونکر بھلا سکتا ہے۔جب کامل مہربانی سے اُس نے محبت دی تو پھر کیوں اس درد کی دوا نہ بخشتا۔جب خود ہی اُس نے اپنے عشق سے ہمارے دلوں کو کباب کر دیا تو پھر رحمت کے ساتھ ہم سے کلام کیوں نہ کرتا۔دل کو محبوب کے کلام کے سوا آرام نہیں ملتا۔خواہ محبوب آنکھوں کے سامنے ہی ہو۔لیکن جب محبوب خود ہی پردے میں ہو۔تو کلام کے بغیر صبر کس طرح آسکتا ہے۔مگر ان باتوں کو صرف وہ عاشق ہی جانتا ہے جو راہِ محبت کا واقف ہے۔حسن کا عاشقوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی حسین بغیر قدردان کے نہیں ہوتا۔عاشق وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو بھول جائے۔طریق عشق میں (اپنے)آپ کو کچھ سمجھنا برا ہے۔لیکن اس تکبر اور خودی کا استیصال خدا تعالیٰ کی وحی کے بغیر ممکن نہیں۔جس نے اس دلی دوست کے وصل کا لُطف اُٹھایا۔اُس نے صرف آسمانی وحی کی بدولت اٹھایا۔عشق الہام ہی کی وجہ سے دنیا میں آیا اور دردنے بھی الہام ہی کی وجہ سے آتش فشانی کی۔شوق، اُنس، اُلفت اور مہرو وفا ان سب کی رونق الہام کی وجہ سے ہے۔جس کسی نے خدا کو پایا الہام سے پایا۔ہر ایک چہرہ جو چمکا وہ الہام سے چمکا۔تو محبت کے کوچہ کا واقف نہیں اس لئے کلام یار پر تعجب کرتا ہے