براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 695
۔ہم جو نفس امارہ کے قیدی ہیں خد اکے بغیر ہم بالکل ہی ناکارہ ہیں۔جب سے خدا کی وحی ہماری ہدایت کے لئے تیار ہوئی ہمارے بہت سے عقدے حل ہو گئے۔جو خدا کا کام ہے وہ تجھ سے نہیں ہو سکتا۔خالی چکی ُتو کیا گھما رہا ہے۔تو اور تیرا علم ایک طرف ہے۔ہم اور خدا کا علم ایک طرف اب دیکھ لے کہ دونوں میں کیا فرق ہے۔ایک وہ ہے جس کا معشوق اُس کی بغل میں ہے دوسرا وہ ہے جس کی آنکھ انتظار میں دروازے پر لگی ہوئی ہے۔ایک وہ شخص ہے جو اپنے محبوب کے پاس بیٹھا ہے دوسرا وہ ہے جو گلی میں آوارہ پھر رہا ہے صفحہ ۱۶۳۔ایک وہ ہے جس نے اپنا مقصد پالیا۔دوسرا وہ ہے جو اپنا مقصد پانے کی فکر میں جل رہا ہے۔تجھے عالم اسرار سے شرم آنی چاہیے تو اپنی عقل پر فخر کرتا ہے۔تیرے تکبر پر افسوس۔تیرا سارا کام نامکمل رہ گیا۔ناقص عقل کے ساتھ تجھے کیسابُرا واسطہ پڑا۔صفحہ ۱۶۹۔تیری عقل ہر وقت تجھے تکبر میں گرفتار رکھتی ہے جا اور ایسی عقل تلاش کر جو تجھے خود بینی سے نجات دے۔۔یہی بہتر ہے کہ ہم خدا کے علم کو خدا سے ہی سیکھیں کیونکہ جو علم ہمارے پاس ہے اُس میں سینکڑوں غلطیاں ہیں۔اگر خدا خاموش رہے تو اُس سے بہتر بات کون کہہ سکتا ہے اگر وہ تجھے چھوڑ دے تو پھر کون تیری دستگیری کر سکتا ہے۔جا اور اُس کی قدر پہچان اور حجت بازی کو چھوڑ دے کیونکہ جو بات تو پیش کرتا ہے وہ تیرے سر پر مصیبتیں لائے گی صفحہ ۱۷۱۔ہر آنکھ کو روشنی کی ضرورت ہے خدا کا قانون ایسا ہی ہے۔بغیر سورج دیکھنے والی آنکھ کس نے دیکھی؟ خدا نے ایسی آنکھ کب بنائی؟۔جب تو خود ہی قانون قدرت کو توڑتا ہے۔تو پھر تو دوسروں پر کیوں اعتراض کرتا ہے؟۔وہ خدا جس نے انسان کی ہر ضرورت کو پورا کیا، کیا وہ مذہب کے بارے میں تیری رہنمائی نہ کرتا؟