براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 680
۔اُس احمد آخر زمان کے نور سے لوگوں کے دل آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئے۔وہ تمام بنی آدم سے بڑھ کر صاحب جمال ہے اور آب وتاب میں موتیوں سے بھی زیادہ روشن ہے۔اُس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اُس کے دل میں معارف سے پُر ایک کوثر ہے۔خدا کے لئے اُس نے ہر وجود سے اپنا دامن جھاڑ دیا بحرو بر میں اُس کا کوئی ثانی نہیں۔حق نے اُس کو ایسا چراغ دیا ہے کہ تا ابد اسے ہوائے ُتند سے کوئی خوف وخطر نہیں۔وہ خدائے جلیل کی درگاہ کا پہلوان ہے اور اُس نے بڑی شان سے کمر میں خنجر باندھ رکھا ہے۔اُس کے تیر نے ہر میدان میں تیزی دکھائی ہے اور اُس کی تلوار نے ہر جگہ اپنا جوہر ظاہر کیا ہے۔اُس نے دنیا پر بتوں کا عجز ثابت کر دیا اور خدائے واحد کی طاقت کھول کر دکھا دی۔تا خدائی طاقت سے بے خبر نہ رہیں بت ستا، بت پرست اور بت گر۔وہ صدق، سچائی اور راستی کا عاشق ہے مگر کذب، فساد اور شر کا دشمن ہے۔وہ اگرچہ آقا ہے مگر عاجزوں کے لیے عاجز۔وہ بادشاہ ہے مگر بے کسوں کا خدمت گزار ہے۔وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اُس سے دیکھیں وہ کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں۔وہ محبوب کے عشق کی شراب میں بیخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے۔اُس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی۔اُس کا نور ہر ملک پر چمکا۔وہ ہر صاحبِ بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہراہلِ نظر کے لئے حجتِ حق ہے۔کمزوروں کا رحمت سے ہاتھ پکڑنے والا اور نا اُمیدوں کا شفقت کے ساتھ غم خوار۔اُس کے چہرہ کا حسن شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اُس کے کوچہ کی خاک مشک و عنبر سے بہتر ہے صفحہ ۱۹۔سورج چاند اس سے کہاں مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خداکے نور سے سَو سورج روشن ہیں۔ہمیشہ کی زندگی سے ایک نظر بہتر ہے اگر اُس پیکر ِ ُحسن پر پڑ جائے۔میں جو اُس کے ُحسن سے باخبر ہوں اُس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جب کہ دوسرا صرف دل دیتا ہے۔اُس کی یاد مجھے بیخود بنا دیتی ہے وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا ہے