براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 671 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 671

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۶۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم کیا جا سکتا ہے کیا ایسا خیال کرنے سے وہ کامل رہ سکتا ہے یا اس کی روحانی طاقتوں کا ثبوت میسر آ سکتا ہے۔ حقیقی تسلی جس کی بنیاد ایک محکم یقین پر ہونی چاہئے صرف قیاسی خیالات سے ممکن نہیں بلکہ خیالات قیاسی کی بڑی سے بڑی ترقی ظن غالب تک ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ جب قیاس انکار کی طرف جھک نہ جائے غرض عقلی وجوہ بالکل غیر تسلی بخش اور آخری حد عرفان سے پیچھے رہے ہوئے ہیں اور اُن کی اعلیٰ سے اعلیٰ پہنچ صرف ظاہری وہ بھی ایک ساعت کے لئے صادقانہ نیت کو استعمال میں لاویں ۔ جس حالت میں ان کی فراخ دلی اور نیک طینتی ان کی قوم میں مسلم الثبوت ہے تو ہم کیونکر نا امید ہو سکتے ہیں یا کیونکر گمان کر سکتے ہیں کہ اس نیک منشی کا اس سے زیادہ وسیع ہونا ممکن نہیں اس لئے گو میں نے اب تک کسی صاحب مخالف کو منصفانہ قدم اٹھاتے نہیں پایا لیکن تاہم ابھی فرق بین کرے گا۔ خدا لکھ چکا ہے کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔ کوئی نہیں کہ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔ یہ خداکے کام دین کی سچائی کے لئے حجت ہیں۔ میں اپنی طرف سے تجھے مدد دوں گا میں خود تیرا غم دور کروں گا۔ اور تیرا خدا قادر ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا کیا جو کچھ تو چاہے کر کہ میں نے تجھے بخشا۔ تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔ اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیات شرعیہ تجھے حلال ہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئے ہیں اور اعمال صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندہ کی مرضی بنائی گئی اور سب ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئی۔ و ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔ وقالوا ان هو افک افترى وما سمعنا بهذا في ابائنا الاولين ولقد كرمنا بني ادم وفضلنا بعضهم على بعض اجتبيناهم و اصطفيناهم كذالك ليكون آية للمؤمنين۔ ام حسبتم ان اصحاب الكهف والرقيم كانوا من أياتنا عجبا۔ قل هو الله عجيب۔ कृपाले