براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 670
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۶۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم نازل ہوتے ہیں اور خود یہ نہایت کو نہ اندیشی اور قلت معرفت ہے کہ نا پائیدار حیات کا اہتمام تصرف خاص الہی سے تسلیم کر لیا جاوے لیکن جو حقیقی حیات اور لا زوال زندگی ہے یعنی معرفت الہی اور نور باطنی یہ صرف اپنی ہی عقلوں کا نتیجہ قرار دیا جائے ۔ کیا وہ خدا جس نے جسمانی سلسلہ کے بر پارکھنے کے لئے اپنی الوہیت کی ۵۵۸ قوی طاقتوں کو ظاہر کیا ہے اور بغیر وسیلہ انسانی ہاتھوں کے زبر دست قدرتیں دکھائی ہیں وہ روحانی طور پر اپنی طاقت ظاہر کرنے کے وقت ضعیف اور کمزور خیال कपाल نمبراا ایسا نہ کرے تب تک کسی کے عوعو کرنے سے چاند کے نور میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ ایسے شخص کی حالت نہایت افسوس کے لائق ہے کہ جواب تک بدیہی صداقت سے بد نصیب اور محروم رہنے کے لئے دانستہ ضلالت کی راہوں میں قدم رکھتا ہے۔ ہمارے مخالفوں میں سے کئی صاحب مشہور و نامور ہیں اور جہاں تک ہم خیال کرتے ہیں ان کے علم اور فہم کی نسبت ہمارا یہی یقین ہے کہ اگر انصاف پر آویں تو ان صداقتوں کو بدیہی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری نیت میں ہر گز نفسانیت کا جھگڑا نہیں اور بجز اس کے کہ دنیا میں سچائی اور نیکی پھیلائی جائے اور کوئی غرض نہیں اس لئے منصف مزاج ذی علم لوگوں سے یہی درخواست ہے کہ بصائر للناس۔ نصرتك من لدنی۔ انی منجیک من الغم۔ وكان ربک قدیرا۔ انت معى وانا معك خلقت لك ليلا ونهارا اعمل ما شئت فانى قد غفرت لك۔ انت منی بمنزلة لا يعلمها الخلق مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ تا خدا کے نو رکو بجھا دیں کہہ خدا اس نور کا آپ حافظ ہے۔ عنایت الہیہ تیری نگہبان ہے۔ ہم نے اُتارا ہے اور ہم ہی محافظ ہیں۔ خدا خیر الحافظین ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے اور تجھ کو اور اور چیزوں سے ڈرائیں گے۔ یہی پیشوایان کفر ہیں ۔ مت خوف کر تجھی کو غلبہ ہے یعنی حجت اور برہان اور قبولیت اور برکت کے رو سے تو ہی غالب ہے ۔ خدا کئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا یعنی مناظرات و مجادلات بحث میں تجھ کو غلبہ رہے گا۔ پھر فرمایا کہ میرا دن حق اور باطل میں