براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 666
روحانی خزائن جلد 1 ۶۶۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۵۴ منصب اُسی کو پہنچتا ہے کیونکہ امراض روحانی پر اسی کو اطلاع ہے اور ازالہ مرض اور استرداد ۵۵۶ ۵۵۷ ۵۵۷ صحت پر وہی قادر ہے پھر بعد اس کے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو چکتے ہیں پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارساز حقیقی اور ظاهر و باطنا قابل تعریف ہے یعنی جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو اس صورت میں اس کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں نہیں جو اُس سے باہر ہو کوئی حکمت نہیں جو اس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو اور یہ باتیں بلا ثبوت نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ محقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اس صداقت کو اپنی اس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارف قرآنی کو اس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالب صادق کی تسلی اور تشفی کے لئے بحر عظیم کی طرح بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۴ ☆ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کر دیا۔ یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپان ہیں جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہے پھر بعد اس کے فرمايا هو شعنا نعسا ۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے ۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت باعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لو یو ۔ آئی شیل گو یو لارج پارٹی اوف اسلام ۔ چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنے کھلے ہیں اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا ۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہے۔ یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی و مطهرك من الذين كفروا ) وجاعل الذين اتبعوك فوق ☆ الذين كفروا الى يوم القيامه۔ ثلة من الأولين وثلة من الآخرين ۔ اے عیسیٰ میں تجھے یہ فقرہ سہو کا تب سے براہین میں رہ گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷۳ حاشیہ )