براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 660
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۶۵۸ روحانی خزائن جلد ۱ سوچیں اور سمجھیں۔ ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف کی ضرورت نزول کی اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب تمام امتوں نے اُصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور کوئی دین روئے زمین پر ایسا نہ تھا کہ جو خداشناسی اور پاک اعتقادی اور نیک عملی پر قائم اور بحال ہوتا بلکہ سارے دین بگڑ گئے تھے اور ہر یک مذہب میں طرح طرح کا فساد دخل کر گیا تھا اور خو دلوگوں کے طبائع میں دنیا پرستی کی محبت اس قدر بھر گئی تھی کہ بجز دنیا اور دنیا کے ناموں اور دنیا کے آراموں خواص عجیبہ اس کے مسلمانوں کی کتابوں میں اندراج پائے ہیں یہ سب انہیں کے فہم کی تیزی ہے اور انہیں کی طبیعتوں کے ایجادات ہیں ورنہ در اصل قرآن لطائف و نکات و خواص عجیبہ سے خالی ہے مگر ایسے لوگ بجز اس کے کہ اپنا ہی حمق اور محبت کا ہر یک حال میں حامی ہے نماز کے اول یا عین نماز میں بذریعہ الہام یہ بشارت دی لا تخف انک انت الاعلی اور پھر فجر کو ظاہر ہو گیا کہ وہ خبر بری ہونے کی سراسر جھوٹی تھی اور انجام کا روہی ظہور میں آیا کہ جو اس عاجز کو خبر دی گئی تھی جس کو شرمیت نامی ایک آریہ اور چند دوسرے لوگوں کے یاس قبل از وقوع بیان کیا گیا تھا کہ جواب تک قادیان میں موجود ہیں۔ پھر ایک اور ایسا ہی پر وحشت ماجرا گزرا جس کا قصہ اس سے بھی عجیب تر ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک مقدمہ میں کہ اس عاجز کے والد مرحوم کی طرف سے اپنی زمینداری حقوق کے متعلق کسی رعیت پر دائر تھا اس خاکسار پر خواب میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہو جائے گی چنانچہ اس عاجز نے وہ خواب ایک آریہ کو کہ جو قادیان میں موجود ہے بتلا دی پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ اخیر تاریخ پر صرف مدعا علیہ معہ اپنے چند گواہوں کے عدالت میں حاضر ہوا اور اس طرف سے کوئی مختار وغیرہ حاضر نہ ہوا۔ شام کو مدعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ اس خبر کو سنتے ہی ۵۵۱ ۵۵۱ ۵۵۲