براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 653 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 653

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۵۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اگر خدا صالح لوگوں کے ذریعہ سے گمراہوں کا تدارک نہ فر ما تا اور بعض کو بعض سے دفعہ نہ کرتا تو زمین بگڑ جاتی پر یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ گمراہی کے پھیلنے کے وقت اپنی طرف سے ہادی بھیجتا ہے کیونکہ تفضل اور احسان اُس کی عادت ہے اور تجھ کو ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام عالم پر نظر رحمت کریں اور نجات کا راستہ اُن پر کھول دیں اور تا تو لوگوں کو کہ غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں حق کی طرف توجہ دلا دے اور اُن کو خبر دار کرے۔ کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ اکثر لوگ اُن میں سے سنتے اور سمجھتے ہیں نہیں یہ تو چار پائیوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر اور اگر خدا ان لوگوں سے (۵۴۴) ہر موقعہ پر ثابت کرتے چلے جاتے ہیں + تو اُس پر قرآن شریف کی شان بلند جس سے انسانی طاقتیں مقابلہ نہیں کر سکتیں ایسی وضاحت سے کھل سکتی ہے جس پر زیادت متصور (۵۴۵ نہیں اور اگر با وجود مشاہدہ ان کمالات کے پھر بھی کسی کور باطن پر عدیم المثالی اُس کلام مقدس کی مشتبہ رہے تو اُس کا علاج قرآن شریف نے آپ ہی ایسا کیا یہ عاجز اس مقام تک لکھ چکا تھا کہ شہاب الدین نامی ایک شخص موحد ساکن تھہ غلام نبی (۵۴۴) نے آکر بیان کیا کہ مولوی غلام علی صاحب اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے کہ جو رسولوں کے وحی سے مشابہ ہے باصرار تمام انکار کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے بعض مولوی صاحبان مجانین کے ۵۳۵ خیالات سے اُس کو منسوب کرتے ہیں۔ اور اُن کی اس بارہ میں حجت یہ ہے کہ اگر یہ الہام حق اور صحیح ہے تو صحابہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانے کے لئے احق اور اولی تھے حالانکہ اُن کا پانا متفق نہیں ۔ اب یہ احقر عباد عرض کرتا ہے کہ اگر یہ اعتراض جو شہاب الدین موحد نے مولوی صاحبوں کی طرف سے بیان کیا ہے حقیقت میں انہیں کے مونہہ سے نکلا ہے تو بجواب اس کے ہر یک طالب صادق کو اور نیز حضرات ممدوحہ کو یا د رکھنا چاہیئے کہ عدم علم سے عدم تھے لازم نہیں آتا۔ کیا ممکن نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس قسم کے