براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 652 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 652

روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم یہ نہیں کہ فضول اور بے فائدہ اور بے وقت نازل ہوا ہے اے اہل کتاب تمہارے پاس ایسے وقت میں ہمارا رسول آیا ہے کہ جبکہ ایک مدت سے رسولوں کا آنا منقطع ہو رہا تھا۔ سو وہ رسول فترت کے زمانہ میں آکر تم کو وہ راہ راست بتلاتا ہے جس کو تم بھول گئے تھے تا تم یہ نہ کہو کہ ہم یونہی گمراہ رہے اور خدا کی طرف سے کوئی بشیر و نذیر نہ آیا جو ہم کو متنبہ کرتا۔ سواب سمجھو کہ وہ بشیر نذیر جس کی ضرورت تھی آ گیا اور خدا جو ہر چیز پر قادر ہے اُس نے تم کو گمراہ (۵۲۳) پا کر اپنا کلام اور اپنا رسول بھیج دیا۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارہ تک پہنچ چکے تھے سو خدا نے تم کو اے ایماندار و نجات دی اسی طرح وہ اپنے نشان کو بیان فرماتا ہے تا تم ہدایت پا جاؤ اور تا عذاب کے نازل ہونے پر گمراہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اے خدا تو نے قبل از عذاب اپنا رسول کیوں نہ بھیجا تا ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور مومن بن جاتے اور پر دلالت کر رہے ہیں اُن کی نظیر اپنے مذہب میں پیش نہ کر سکیں تو پھر یہی لازم ہے کہ جھوٹ کو چھوڑ و کر بچے مذہب کو قبول کر لیں۔ ۵۴۴ اب پھر ہم اپنی اصل تقریر کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ جس قدر میں نے اب تک لطائف و معارف و خواص سورۃ فاتحہ لکھے ہیں وہ بدیہی طور پر بے مثل و مانند ہیں مثلاً جو شخص ذرا منصف بن کر اول اُن صداقتوں کے اعلیٰ مرتبہ پر غور کرے جو کہ سورۃ فاتحہ میں جمع ہیں اور پھر ان لطائف اور نکات پر نظر ڈالے جن پر سورہ ممدوحہ مشتمل ہے اور پھر حسن بیان اور ایجاز کلام کو مشاہدہ کرے کہ کیسے معانی کثیرہ کو الفاظ قلیلہ میں بھرا ہوا ہے اور پھر عبارت کو دیکھئے کہ کیسی آب و تاب رکھتی ہے اور کسی قدر روانگی اور صفائی اور ملائمت اس میں پائی جاتی ہے کہ گویا ایک نہایت مصفی اور شفاف پانی ہے کہ بہتا ہوا چلا جاتا ہے اور پھر اُس کی روحانی تا شیروں کو دل میں سوچے کہ جو بطور خارق عادت دلوں کو ظلمات بشریت سے صاف کر کے موردِ انوارِ حضرت الوہیت بناتی ہیں جن کو ہم اس کتاب کے