براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 650
۶۴۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللَّهِ مُبَيَّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِيْنَ امَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ الجزو نمبر ۲۸۔ یعنی یه ہماری کتاب ہے جس کو ہم نے تیرے پر اس غرض سے نازل کیا ہے کہ تا تو لوگوں کو کہ جو ۵۲۱ ظلمت میں پڑے ہوئے ہیں نور کی طرف نکالے سوخدا نے اُس زمانہ کا نام ظلمانی زمانہ رکھا اور پھر فرمایا کہ خدا مومنوں کا کارساز ہے ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکال رہا ہے اور پھر فرمایا کہ خدا اور اس کے فرشتے مومنوں پر درود بھیجتے ہیں تا خدا ان کو ظلمت سے نور کی طرف نکالے اور پھر فرمایا کہ ظلمانی زمانہ کے تدارک کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے نور آتا ہے وہ نور اس کا رسول اور اس کی کتاب ہے خدا اس نور سے ان لوگوں کو راہ دکھلاتا ہے کہ جو اس کی خوشنودی کے خواہاں ہیں سوان کو خدا ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بدیہی طور پر ثابت ہوتی ہے اور یا یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ تو ریت میں یعنی کتاب استثنا ۱۸ باب ۲۱ و ۲۲ آیت میں بچے نبی کی نشانی لکھی ہے وہ نشانی صحیح نہیں ہے سو اس بیچ میں آ کر نہایت ہٹ دھرمی سے ان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ پیشگوئیاں اصل میں فراستیں ہیں کہ اتفاقا پوری ہوگئی ہیں لیکن چونکہ جس درخت کی یخ مضبوط اور طاقتیں قائم ہیں وہ ہمیشہ پھل لاتا ہے۔ اس جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں اور دیگر خوارق صرف اسی زمانہ تک محدود نہیں تھے بلکہ اب بھی ان کا برابر سلسلہ جاری ہے اگر کسی پادری وغیرہ کو شک و شبہ ہو تو اس پر لا زم وفرض ہے کہ وہ صدق اور ارادت سے اس طرف توجہ کرے پھر دیکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں کس قدر اب تک بارش کی طرح برس رہی ہیں لیکن اس زمانہ کے متعصب پادری اگر خود کشی کا ارادہ کریں تو کریں مگر یہ امید اُن پر بہت ہی کم ہے کہ وہ طالب صادق بن کر کمال ارادت اور صدق سے اس نشان کے جو یاں ہوں ۔ بہر حال دوسرے ا الطلاق: ۱۲۱۱