براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 649
روحانی خزائن جلد 1 ۶۴۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم فرمایا ہے جو بنیا د دعوی ہے اُس کا خلاصہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ﴿۵۰﴾ L ظاہر ہونے کے متقاضی تھے اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے رسول کا بار بار یہی کام بیان کیا ہے کہ اس نے زمانہ کو سخت ظلمت میں پایا اور پھر ظلمت سے ان کو باہر نکالا جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔ كِتُبُ أَنْزَلْتُهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ ۔ الجزو نمبر ١٣ سورة ابراهيم اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ ۔ الجزو نمبر ٣۔ هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَبِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ ۔ - الجزو نمبر ۲۲۔ قَدْ جَاءَكُمْ مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتُبُ مُّبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلْمِ وَ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّوْرِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۔ " الجـ الجزو نمبر ۶ سوره مائده۔ بقیه حاشیه نمبر ا ہٹ دھرمی کو اختیار کر کے محض کینہ اور عناد اور شیطانی سیرت کی راہ سے عوام کالانعام کو یہ کہہ کر بہکاتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی سواب منصفان حق پسند خود سوچ سکتے ہیں کہ جس حالت میں حضرت خاتم الانبیاء کے ادنی خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزار ہا پیشگوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں تو پھر کس قدر بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ کوئی کور باطن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے انکار کرے اور پادریوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے بارہ میں اس وجہ سے فکر پڑی کہ توریت کتاب ۵۴۲ استثناء باب ہر دہم آیت بست و دوم میں سچے نبی کی یہ نشانی لکھی ہے کہ اس کی پیشگوئی پوری ہو جائے ۔ سو جب پادریوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزار ہا خبریں قبل از وقوع بطور پیشگوئی فرمائی ہیں اور اکثر پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھی بھرا ہوا ہے اور وہ سب پیشگوئیاں اپنے وقتوں پر پوری بھی ہو گئیں تو ان کے دل کو یہ دھڑ کا شروع ہوا کہ ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے ابراهيم: ۲ البقرة : ۲۵۸ ۳ الاحزاب: ۴۴ المائدة : ١٦-١٧