براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 634 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 634

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۳۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلتا ہے پھر جن بندوں کو اپنے بندوں (۵۲۸) میں سے اس مینہ کا پانی پہنچاتا ہے تو وہ خوش وقت ہو جاتے ہیں اور نا گہانی طور پر خدا ان کے غم کو خوشی کے ساتھ مبدل کر دیتا ہے اور مینہ کے اترنے سے پہلے ان کو بباعث نہایت سختی کے کچھ امید باقی نہیں رہتی پھر یکد فعہ خدائے تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا ہے یعنی ایسے وقت میں باران رحمت نازل ہوتا ہے جب اپنے ذاتی تجارب سے ہر یک منکر کی پوری پوری اطمینان کر سکتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ طالب حق بن کر اس احقر کی طرف رجوع کریں اور جو جو خواص کلام الہی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس کو چشم خود دیکھ لیں اور تاریکی اور ظلمت میں سے نکل کر نور حقیقی میں داخل ہو جائیں ۔ اب تک تو یہ عاجز زندہ ہے مگر وجود خا کی کی کیا بنیاد اور جسم فانی کا کیا اعتماد پس مناسب ہے کہ اس عام اعلان کو سنتے ہی احقاق حق اور ابطال باطل کی طرف توجہ کریں ۔ تا اگر دعوی اس احقر کا یہ پایہ ثبوت نہ پہنچ سکے تو منکر اور روگردان رہنے کے لئے ایک وجہ موجہ پیدا ہو جائے ۔ لیکن اگر اس عاجز کے قول کی صداقت جیسا کہ چاہئے بہ پایہ ثبوت پہنچ جائے تو خدا سے ڈر کر اپنے باطل خیالات سے باز آئیں اور طریقہ حلقہ اسلام پر قدم ، حاشیه نمبراا اشیه در حاشیه نمبر ۳ مصطفی آئینہ روئے خداست منعکس در وے ہماں خوئے خداست به گر ندیدستی خدا او را میں آنکه آویزد بمستان خدا من رأني قد رأى الحق این یقین خصم او گردد جناب کبریا دست حق تائید این مستان کند چوں کسی بادست حق دستاں کند منزل شان برتر از صد آسماں بس نہاں اندر نہاں اندر نہاں پا فشرده در وفائے دلبری واز سرش برخاک افتاده جان خود را سوخته بهر نگار زنده گشته بعد مرگ صد ہزار صاحب چشم اند آنجا بے تمیز چشم کوراں خود نباشد بیچ چیز سرے