براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 633
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۳۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم کھیتی نہیں نکلتی اسی طرح سے ہم پھیر پھیر کر بتاتے ہیں تا جو شکر کرنے والے ہیں شکر کریں ۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ وہ ذات کریم و رحیم ہے کہ جو بر وقت ضرورت ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو بدلی کو ابھارتی ہیں پھر خدائے تعالیٰ اس بدلی کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو تہہ بہ تہہ رکھتا ہے۔ بنا رکھا ہے کہ جو صرف عقلی انکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہوتا ہے اور دوسری طرف خدائے تعالی کو بھی نہایت درجہ کا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ کمزور اور ضعیف ساخیال کر رہے ہیں۔ سو یہ عاجزان سب صاحبوں کی خدمت میں بادب تمام عرض کرتا ہے کہ اگر اب تک تاثیرات قرآنی سے انکار ہے اور اپنے جہل قدیم پر اصرار ہے تو اب نہایت نیک موقعہ ہے کہ یہ احقر خادمین هر چه زو آید ز ذات کبریاست آن که در عشق احد محو و فناست فانی است و تیر او تیر حق است صید او دراصل نخچیر حق است آنچه می باشد خدا را از صفات خود دید در فانیاں آں پاک ذات خوئے حق گردد در ایشان آشکار از جمال و از جلال کردگار لطف شان لطف خدا ہم قہر شاں قہر حق گردد نہ ہمچو دیگراں فانیاں هستند از خود دور چوں ملائک کارکن از دادگر گر فرشتہ قبض جانے میکند یا کرم بر ناتوانی میکند این همه سختی و نرمی از خداست او ز خواہشہائے نفس خود جداست ہم چنیں میدان مقام انبیاء واصلان و فاصلال از ما سواء و آله ربانی اند نور حق در جامه انسانی اند سخت پنہاں در قباب حضرت اند گم ز خود در رنگ و آب حضرت اند اختران آسمان زیب و و فر رفته از چشم خلائق دور تر کس ز قدر نور شاں آگاه نیست زانکه ادنی را با علی راه نیست کور کورانہ زند رائے دنی چشم کورش بے خبر زاں روشنی ہم چنیں تو اے عدو مصطفی ے نمائی کوری خود را بما بر قمر عوعو گئی از سنگ رگے نور مه کمتر نہ گردد زیں سگے اند ۵۲۸