براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 626
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۲۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۲۳ اَوْ أَرَادَ شُكُورًا وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا (۵۲۳) وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا ۔ اَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ هَذَا الظَّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَّا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا ثُمَّ قَبَضْنُهُ إِلَيْنَا قَبْضَايَسِيرًا ہے اور اسی کو واقعی اور حقیقی طور پر اپنا دل آرام سمجھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس میں تمام ترقیات قرب ختم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے اس انتہائی کمال کو پہنچ جاتا ہے کہ جو فطرت بشری کے لئے مقدر ہے۔ ان لوگوں کے جو عظمت اسلام سے بے خبر ہیں لکھی جاتی ہے اور اس پیشگوئی کے پورے ہونے سے پہلے ایک عجیب طور کی مشکلات اور مکروہات پیش آئے ۔ آخر خداوند کریم نے ان سب مشکلات کو دور کر کے بتاریخ دہم ستمبر ۱۸۸۳ء روز دوشنبہ اس پیشگوئی کو پورا کیا ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ بتاریخ ۶ ستمبر ۱۸۸۳ء روز پنجشنبه خداوند کریم نے تین ضرورت کے وقت میں اس عاجز کی تسلی کے لئے اپنے کلام مبارک کے ذریعہ سے یہ بشارت دی کہ بست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔ چونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذات غیب دان کا خاصہ ہے کسی اور کا کام نہیں ہے۔ دوسری عجیب بر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہو دطرز پر تھی کیونکہ قیمت مقررہ ۵۵۲۳ بہ کتاب سے اس تعداد کو کچھ تعلق نہیں ۔ پس انہیں عجائبات کی وجہ سے یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا ۔ پھر استمبر ۱۸۸۳ء کو تاکیدی طور پر سہ بارہ الہام ہوا کہ بست و یک روپیه آئے ہیں۔ جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیشگوئی کا ظہور ہو جائے گا ۔ چنانچہ ابھی الہام پر شاید تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیماردار آیا اور اُس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا ۔ ہر چند علاج معالجہ اس عاجز کا پیشہ نہیں اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آ جاوے تو اگر اس کی دوا یا د ہو تو محض ثواب کی غرض سے اللہ فی اللہ دی جاتی ہے ۔ لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا ۔ کیونکہ فی الفور خیال آیا کہ یہ اُس پیشگوئی ل الفرقان : ٦٣ الفرقان: ۵۵