براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 624
روحانی خزائن جلد 1 ۶۲۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۲) أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ، وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ ۵۲۲ ۵۲۱ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا لِنُحْيِ بِهِ بقیه حاشیه نمبر 11 نية قیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اُس کے دل میں آمیزش کر جاتی ہے کہ اُس کے دل سے محبت الہی کا منفک ہونا مستحیل اور ممتنع ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کے دل کو اور اس کی جان کو بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ ان کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔ پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اُس وقت کی تقریر کو سن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔ رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اُس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ چونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار و تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اُس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ اُس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔ فتدبروا و تفكروا ۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ لوگوں کی بیماریاں اور خدا کی برکتیں یعنی مبارک کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے لوگوں کی روحانی بیماریاں دور ہوں گی اور جنکے نفس سعید ہیں وہ تیری باتوں کے ذریعہ سے رشد و ہدایت پا جائیں گے اور ایسا ہی جسمانی بیماریاں اور تکالیف جن میں تقدیر مبرم نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ تیرا رب بڑا ہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا کی نعمت کو یا د رکھ اور میں نے تجھ کو تیرے وقت کے تمام عالموں پر فضیلت دی ۔ اس جگہ جاننا چاہئے کہ یہ تفضیل طفیلی اور جزوی ہے یعنی جو شخص حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل طور پر متابعت کرتا ہے۔ اُس کا مرتبہ خدا کے نزدیک اسکے تمام ہمعصروں سے برتر واعلیٰ ہے۔ پس حقیقی اور کلی طور پر تمام فضیلتیں حضرت خاتم الانبیاء کو جناب احدیت کی طرف سے ثابت ہیں اور ا الفرقان: ۴۵ فاطر: ۴۶