براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 623
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۲۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم عَلَى الْعَلَمِيْنَ تِلْكَ أَيتُ اللهِ تَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِن الْمُرْسَلِينَ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ اباؤُهُمْ فَهُمْ غُفِلُونَ - اَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ اور صاحب اس مرتبہ کا اخلاق الہیہ سے ایسا ہی بالطبع پیار کرتا ہے کہ جیسے وہ اخلاق حضرت احدیت میں محبوب ہیں اور محبت ذاتی حضرت خداوند کریم کی اس قدر۔ Corio وہ لوگ حجت اور دلیل کے رو سے اپنے مخالفوں پر غالب رہیں گے ۔ اور صدق اور راستی کے انوار ساطعہ انہیں کے شامل حال رہیں گے ۔ اور ست مت ہو اور غم مت کرو ۔ خدا تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ خبر دار ہو بہ تحقیق جو لوگ مقربانِ الہی ہوتے ہیں ان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ تم کرتے ہیں۔ ۵۲۰ ہے تو اس حالت میں مرے گا کہ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔ پس بہشت میں داخل ہو انشاء اللہ امن کے ساتھ تم پر سلام تم شرک سے پاک ہو گئے سو تم امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہو تجھ پر سلام تو مبارک کیا گیا۔ خدا نے دعا سن لی وہ دعاؤں کو سنتا ہے تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے۔ یہ اس طرف اشارہ فرمایا کہ پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رب اجعلنى مباركا حيث ما كنت ۔ یعنی اے میرے رب مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ کہ میں بود و باش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اپنے لطف واحسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی ۔ اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اول آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے اور اس برکت کے بارہ میں ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کو اسی جگہ لکھنا مناسب ہے۔ اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے۔ جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اُس شخص البقرة: ۲۵۲_۲۵۳ الانبياء: ۱۰۸ یس: سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ہر جگہ میں ہونا چاہیے۔(ناشر)