براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 610
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۶۰۸ روحانی خزائن جلد ۱ گے۔ وہ حقیقت میں اُس نبی متبوع کے فیوض ہیں۔ سو اسی جہت سے اگر ہوں اور ثم انشاناه خلقا آخر کا وقت آ جاتا ہے اور چونکہ یہ فناء اتم بغیر نصرت توفیق و توجہ خاص قادر مطلق کے ممکن نہیں اس لئے یہ دعا تعلیم کی یعنی اهـــدنــــا الصراط المستقیم جس کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ہم کو راہ راست پر قائم کر و پاک و برتر ہے جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعوئی سے چھوٹ جاویں گے ۔ چاہتے ہیں جو ایسے کاموں سے تعریف کئے جائیں جن کو انہوں نے کیا نہیں ۔ ار خدائے تعالی سےکوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ اور جب تک وہ کسی شے کی اصلاح نہ کرے اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اور جو شخص اس کے مطبع سے رڈ کیا جائے ۔ اس کو کوئی واپس نہیں لاسکتا۔ لعلک باخع نفسك الا يكونوا مؤمنين۔ لا تقف ما ليس لک به علم ولا تخاطبنى فى الذين ظلموا انهم مغرقون۔ يا ابراهيم اعرض عن هذا انه عبد غير صالح۔ انما انت مذكر وما انت عليهم بمسيطر ۔ کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔ وہ غرق کئے جائیں گے۔اے ابراہیم ! اس سے کنارہ کر یہ صالح آدمی نہیں ۔ تو صرف نصیحت دہندہ ہے ان پر داروغہ نہیں ۔ یہ چند آیات جو بطور الہام القا ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں۔ پھر آگے اس کے یہ الہام ہے واستعينوا بالصبر والصلوة واتخذوا من مقام ابراهيم مصلی ۔ اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو۔ اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو ۔ اس جگہ مقام ابراہیم سے اطلاق مرضیہ و معاملہ باللہ مراد ہے یعنی محبت الہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔ یظل ربک علیک و یغیشک و शाले ۵۱۰