براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 609 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 609

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۰۷ براہین احمدیہ حصہ د ۔ پھر بعد ۵۱۰ بصدق دل قبول کرلیا ہے تو جو کچھ انوار و آثار بعد متابعت کامل کے مترتب اس فنا سے طیار ہوتا ہے۔ جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جا تا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور ر و خلق ہونا فتا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے الہام متذکرہ بالا میں اس عاجز کی تشبیہ حضرت موسیٰ سے دی گئی ۔ اور یہ تمام برکات حضرت ستید الرسل کے ہیں جو خداوند کریم اس کی عاجز امت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ۵۰۹ ایسے مخاطبات شریفہ سے یاد فرماتا ہے۔ اللهم صل على محمد وآل محمد ۔ اس کے یہ الہامی عبارت ہے۔ واذا قيل لهم امنوا كما أمن الناس قالوا انؤمن كما أمن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولكن لا يعلمون۔ و يحبون ان تدهنون۔ قل يايها الكفرون لا أعبد ما تعبدون قيل ارجعوا الى الله فلا ترجعون ۔ وقيل استحوذ وافلا تستحوذون ۔ ام تسئلهم من خرج فهم من مغرم مثقلون۔ بل اتيناهم بالحق فهم للحق كارهون۔ سبحانه وتعالى عما يصفون۔ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا أمنا وهم لا يفتنون۔ يحبون ان يحمدوا بمالم يفعلوا۔ ولا يخفى على الله خافية۔ ولا يصلح شيء قبل اصلاحه۔ ومن ردّ من مطبعه فلا مردلہ ۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں خبر دار ہو وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے مداہنہ کرو ۔ کہہ اے کا فرو میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔ تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کر وسوتم رجوع نہیں کرتے ۔ اور تم کو کہا گیا جو تم اپنے نفسوں پر غالب آ جاؤ سو تم غالب نہیں آتے ۔ کیا تو ان لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔ پس وہ اس تاوان کی وجہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتا ہے اور وہ حق سے کراہت کر رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اُن عیبوں سے