براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 587
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۸۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا یعنی قرآن ہر یک قسم کے امور غیبیہ پر مشتمل ہے هُوَ بِقَوْلِ شَيْطنٍ رَّجِيْمٍ فَأَيْنَ اور اس قدر بتلانا جنات کا کام نہیں ۔ ان کو کہہ تَذْهَبُونَ قُل لَّينِ اجْتَمَعَتِ الْإِنس دے کہ اگر تمام جن مشفق ہو جا ئیں اور ساتھ ہی وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ بنی آدم بھی اتفاق کرلیں اور سب مل کر یہ چاہیں هذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ که مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بنا دیں تو كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ان کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہوگا اگر چہ ایک سورۃ بنی اسرائیل الجز و نمبر ۱۵ دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ ، نمبراا بقيه اشیه در حاشیه اُن لوگوں کا طریق وخلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام و فضل ہوا تا طالبین حق کے دل جمعیت پکڑیں سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آ گیا۔ دسواں مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑ گئے ۔ ناحق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں ۔ سو یہ مقصد غَيْرِ الْمَغْضُوبِ | عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِين میں بطور اجمال آگیا ہے یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں۔ سو یہ تمام مقاصد سورۂ فاتحہ میں بطور جمال آگئے۔ بات پوری ہو جائے گی تو کفار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم انی جاعل فی الارض یعنی ۴۹۲ میں نے اپنی طرف سے خلیفہ کرنے کا ارادہ کیا۔ سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ میں زمین پر کرنے والا ہوں یہ اختصاری کلمہ ہے یعنی اس کو قائم کرنے والا ہوں ۔ اس جگہ خلیفہ کے لفظ سے ایسا شخص مراد ہے کہ جو ارشاد اور ہدایت کے لئے بین اللہ و بین الخلق واسطہ ہو۔ خلافت ظاہری کہ جو سلطنت اور حکمرانی پر اطلاق پاتی ہے مراد نہیں ہے اور نہ وہ بجز قریش کے کسی دوسرے کے لئے خدا کی طرف سے شریعت اسلام میں مسلم ہو سکتی ہے بلکہ یہ محض روحانی مراتب اور روحانی نیابت کا ذکر ہے اور آدم کے لفظ سے بھی وہ آدم جو ابوالبشر ہے مراد نہیں بلکہ ایسا شخص مراد ہے جس سے التكوير : ۲۵ تا ۲۷ بنی اسرآئیل:۸۹ ۴۹۳