براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 575
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۷۳ براہین احمدیہ حصہ نادانوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن کی توحید ہمیں پسند نہیں آتی کوئی ایسا قرآن لاؤ جس میں بتوں کی تعظیم اور پرستش کا ذکر ہو یا اسی میں کچھ تبدل تغیر کر کے بجائے تو حید کے شرک بھر دو تب ہم قبول کر لیں گے اور ایمان لے آئیں گے۔ تو خدا نے ان کے سوال کا جواب اپنے نبی کو وہ تعلیم کیا جو آنحضرت کے واقعات عمری پر نظر کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر توفیق اور تائید الہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتا ۔ اور بلا شبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو یکا یک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک متکبران سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گر پڑتا ہے اور ایک گردن کش سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ یہی کل ہے جس سے ایک غافل مردہ میں جان پڑ جاتی ہے۔ انہیں دو باتوں کے تصور سے ہر یک دل دعا کرنے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امدا در بانی پر نظر پڑتی ہے اسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکد رہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذات عظمی کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمت گل اور ہر ایک ہستی کا ستون بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور ہر یک درد کا چارہ اور ہر یک فیض کا میدہ دکھائی دیتی ہے آخر اس سے ایک صورت فنافی اللہ کی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے نہ اپنے ﴿۴۸۲ نفس کی طرف نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اُس ہستی کئے گئے اور آخر وہ ایسا ہی آدمی نکلا اور اس کے باطن میں طرح طرح کے خبث پائے گئے ۔ ایک دفعہ صبح کے وقت یہ نظر کشفی چند ورق چھپے ہوئے دکھائے گئے کہ جو ڈاک خانہ سے آئے ہیں اور اخیر پر ان کے لکھا تھا ۔ آئی ایم بائی عیسی یعنی میں عیسی کے ساتھ ہوں ۔ چنانچہ وہ مضمون کسی انگریزی خوان سے دریافت کر کے دو ہندو ۴۸۲