براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 574
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۷۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم جن پر کوئی حال ان کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف گوئی ثابت کریں اور اُس کو مشتہر کر دیں۔ جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کر دیتے اور اسی جہت سے ان کو ان کی ہر یک بدظنی ۳۸۱ پر ایسا مسکت جواب دیا جاتا تھا کہ وہ ساکت اور لاجواب رہ جاتے تھے مثلاً جب مکہ کے بعض کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یا دنہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کر سکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اس کی روح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی ۔ غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی متحقق طور پر دل میں منقش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتا ہے کہ خالص دعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے بچے پرستار خوب سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصور دعا کے لئے ضروری ہے یعنی اول اس بات کا تصور کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کا ملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ آئی کین ویٹ آئی دل ڈو۔ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا ۔ پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنی ہم کر سکتے ہیں۔ جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باوجود پر دہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے روح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خوان ملنے کو آیا اس کے روبرو ہی یہ الہام ہوا۔ دس <mark>از</mark> <mark>مائی</mark> انیمی یعنی یہ میرا دشمن ہے اگر چہ معلوم ہو گیا تھا کہ یہ الہام اس کی نسبت ہے مگر اس سے یہ معنی بھی دریافت 11 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳