براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 572 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 572

61296 روحانی خزائن جلد ۱ ۵۷۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ان تمام آیات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آتی ہونا بکمال وضاحت ثابت ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت فی الحقیقت امی اور نا خواندہ نہ ہوتے ۔ تو بہت سے لوگ اس دعویٰ اُمیت کی تکذیب کرنے والے پیدا ہو جاتے کیونکہ آنحضرت نے کسی ایسے ملک میں یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ جس ملک کے لوگوں کو آنحضرت کے حالات جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو تمام محامد کاملہ سے متصف اور تمام خوبیوں کی جامع ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمام عالموں کی رب اور تمام رحمتوں کا چشمہ اور سب کو ان کے عملوں کا بدلہ دینے والی ہے پس ان صفات کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بخوبی (۲۹) ظاہر فرمادیا کہ سب قدرت اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر یک فیض اسی کی طرف سے ہے اور اپنی اس قدر عظمت بیان کی کہ دنیا اور آخرت کے کاموں کا قاضی الحاجات اور ہر یک چیز کا علت العلل اور ہر یک فیض کا مبدء اپنی ذات کو ٹھہرایا جس میں یہ بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ اس کی ذات کے بغیر اور اس کی رحمت کے بدوں کسی زندہ کی زندگی اور آرام اور راحت ممکن نہیں اور پھر بندہ کو پھر چند روز کے بعد خبر ملی کہ مدعی ایک نا گہانی موت سے مرگیا اور اس طرح پر شخص ماخوذ نے خلاصی پائی۔فالحمد للہ علی ذالک۔ ماسوا اس کے کبھی کبھی دوسری زبان میں الہام ہونا جس سے یہ خاکسار نا آشنا محض ہے اور پھر وہ الہام کسی پیشگوئی پر مشتمل ہونا عجائبات غریبہ میں سے ہے جو قادر مطلق کی وسیع قدرتوں پر دلالت کرتا ہے۔ اگر چہ بیگا نہ زبان کے تمام الفاظ محفوظ نہیں رہتے اور اُن کے تلفظ میں بعض د وقت باعث سرعت ورود الہام اور نا آشنائی لہجہ و زبان کچھ فرق آ جاتا ہے مگر اکثر صاف صاف اور غیر تیل فقرات میں کم فرق آتا ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ جلدی جلدی القا ہونے کی وجہ سے بعض الفاظ یادداشت سے باہر رہ جاتے ہیں لیکن جب کسی فقرہ کا لقا مکر رسہ کر ر ہو تو پھر وہ الفاظ اچھی طرح سے یادر ہتے ہیں۔ الہام کے وقت میں قادر مطلق اپنے اس تصرف بحت سے کام کرتا ہے جس میں اسباب اندرونی یا بیرونی کی کچھ آمیزش نہیں ہوتی اس وقت ۴۷۹ اشیه در حاشیه نمبر