براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 571
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۶۹ براہین احمدیہ حصہ وَمَا كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَبِ اور اس سے پہلے تو کسی کتاب کو نہیں پڑھتا ۴۷۸۶ وَلَا تَخْقُهُ بِيَمِينِكَ إِذَا لَّا رَتَابَ تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا تا باطل الْمُبْطِلُونَ بَلْ هُوَ ايتُ بَيِّنت في پرستوں کو شک کرنے کی کوئی وجہ بھی ہوتی صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا بلکہ وہ آیات بینات ہیں جو اہل علم يَجْحَدُ بِاتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ لوگوں کے سینوں میں ہیں اور ان سے سورة العنكبوت الجزو نمبر ۲۱ انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں ۔ کامل اور قادر اور جامع صفات کا ملہ خیال کر کے اس کی رحمتوں اور کرموں کو ابتدا سے انتہا تک اپنے وجود اور بقا کے لئے ضروری دیکھنا اور تمام فیوض کا مبدء اسی کو خیال کرنا۔ دوسرے اپنے تئیں اور اپنے تمام ہم جنسوں کو عاجز اور مفلس اور خدا کی مدد کا محتاج یقین کرنا یہی دو امر ہیں ﴿۴۷۸ ہے جن سے دعاؤں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور جو جوش دلانے کے لئے کامل ذریعہ ہیں وجہ یہ کہ انسان کی دعا میں تب ہی جوش پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے تئیں سرا سر ضعیف اور نا تو ان اور مد دالبی کامحتاج دیکھتا ہے اور خدا کی نسبت نہایت قوی اعتقاد سے یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بغایت یہ درجہ کامل القدرت اور رب العالمین اور رحمان اور رحیم اور مالک امر مجازات ہے اور جو کچھ انسانی حاجتیں ہیں سب کا پورا کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے سوسورۃ فاتحہ کے ابتدا میں لکھا ہے یہ خواب بھی بدستور روز نامہ مذکورہ بالا میں اسی ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی۔ پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدر آباد سے خط آ گیا اور نواب صاحب موصوف 11 بقيه ل نے سور و پیہ بھیجا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ ༣ از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دوست نے بڑی مشکل کے وقت لکھا کہ اس کا ایک عزیز کسی سنگین مقدمہ میں ماخوذ ہے اور کوئی صورت نجات کی نظر نہیں آتی اور کوئی سبیل رہائی کی دکھائی نہیں دیتی۔ سو (۴۷۸) اس دوست نے یہ پُر درد ماجرا لکھ کر دعا کے لئے درخواست کی۔ چونکہ اس کی بھلائی مقدر تھی اور تقدیر معلق تھی اس لئے اسی رات وقت صافی میسر آ گیا جو ایک مدت تک میسر نہیں آیا تھا دعا کی گئی اور وقت صافی قبولیت کی امید دیتا تھا چنانچہ قبولیت کے آثار سے ایک آریہ کو اطلاع دی گئی۔ العنكبوت:۵۰۴۹