براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 554 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 554

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۵۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہوتے ہیں ۔ مثلاً مکھی اور دوسرے بعض جانوروں میں یہ خاصیت ہے کہ اگر ایسے (۳۶۳) طور پر مرجائیں کہ اُن کے اعضا میں کچھ زیادہ تفرق اتصال واقع نہ ہو اور اعضا کرتا ہے اور ان کو اپنا راستہ نہیں دکھلاتا۔ کیونکہ وہ لوگ راستہ طلب کرنے میں آپ ستی (۴۶۳) کرتے ہیں ۔ اور اپنے تئیں اس فیض کے لائق نہیں بناتے کہ جو خدا کے قانون قدیم میں محنت اور کوشش کرنے والوں کے لئے مقرر ہے۔ اس حالت کا نام اضلالِ الہی ہے۔ یہود میں صاحب صدق اور اخلاص کم تھے تا کسی کے حسن ارادت کے لحاظ سے کوئی معجزہ ظہور میں آتا لیکن اس کے بعد جب لوگ صاحب صدق اور ارادت پیدا ہو گئے اور طالب حق بن کر مسیح کے پاس آئے تو وہ معجزات دیکھنے سے محروم نہیں رہے چنانچہ یہودا اسکر یوطی کی خراب نیت پر مسیح کا مطلع ہو جاتا یہ اس کا ایک معجزہ ہی تھا جو اس نے اپنے شاگردوں اور صادق الاعتقاد لوگوں کو دکھلایا۔ اگر چہ اُس کے دوسرے سب عجیب کام باعث قصہ حوض اور بوجہ آیت مذکورہ بالا کے مخالف کی نظر میں قابل انکار اور محل اعتراض ٹھہر گئے اور اب بطور حجت مستعمل نہیں ہو سکتے لیکن معجزہ مذکورہ بالا منصف مخالف کی نظر میں بھی ممکن ہے کہ ظہور میں آیا ہو غرض معجزات اور خوارق کے ظہور کے لئے طالب کا صدق اور اخلاص شرط ہے۔ اور صدق اور اخلاص کے یہی آثار و علامات ہیں کہ کینہ اور مکابرو درمیان نہ ہو اور صبر اور ثبات اور غربت اور تذلل سے بہ نیت ہدایت پانے کے کوئی نشان طلب کیا جائے اور پھر اس نشان کے ظہور تک صبر اور ادب سے انتظار کیا جائے تا خداوند کریم وہ بات ظاہر کرے جس سے طالب صادق یقین کامل کے مرتبہ تک پہنچ جائے ۔ غرض ادب اور صدق اور صبر برکات الہیہ کے ظہور کے لئے شرط اعظم ہے جو شخص فیض الہی سے مستفیض ہونا چاہتا ہے اس کے حال کے یہی مناسب ہے کہ وہ سراپا ادب ہو کر یہ تمام تر غربت و صبر اس نعمت کو اس کے اہل کے دروازہ سے طلب کرے اور جہاں معرفت الہیہ کا چشمہ دیکھے آپ افتان و خیزاں اس چشمہ کی طرف دوڑے اور پھر صبر اور ادب سے کچھ دنوں تک ٹھہرا رہے لیکن جو لوگ خدائے تعالیٰ کی طرف سے صاحب خوارق ہیں ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ