براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 543

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اشیه در حاشیه نمبر ۳ بھی اکثر اُس حوض پر جایا کرتا تھا اور اُس کی ان عجیب وغریب خاصیتوں سے با خبر تھا مگر پھر بھی مسیح نے ان معجزات کے دکھلانے میں جن کو قدیم سے حوض عقل کے گھمنڈ میں رہتے ہیں اور نیز ان کا یہ بھی مقولہ ہے کہ کسی خاص دعا کو بندگی اور عبادت کے لئے خاص کرنا ضروری نہیں ۔ انسان کو اختیار ہے جو چاہے دعا مانگے مگر یہ ان کی سراسر نادانی ہے اور ظاہر ہے کہ اگر چہ جزوی حاجات صد ہا انسان کو لگی ہوئی ہیں ۔ کہ حقیقی طور پر بجز خدائے تعالی کے اور کوئی نیک نہیں تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلم ہیں پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب ۴۵۲ حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاق الہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور کچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے سو اخلاق فاضلہ الہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگر چہ منہ سے ہر یک شخص دعوی کر سکتا ہے اور لاف و گزاف کے طور پر ہر ایک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجربہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلف اور تصنع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنی ادنی امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور تکلف اور تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے اور اگر چہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تم اخلاق کا ان میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالص اللہ