براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 542 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 542

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم۔ Grary ۴۵۲ زبان زد ہو رہا تھا اور بے شمار آدمی اُس میں غوطہ مارنے سے شفا پا چکے تھے اور ہر روز پاتے تھے اور ہر وقت ایک میلہ اُس پر لگا رہتا تھا اور مسیح ۴۵۱ کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کوئی انسان ہدایت طلب کرنے اور انعام د الہی پانے سے ممنوع نہیں ہے مگر بموجب اصول آریا سماج کے ہدایت طلب کرنا گنہگار کے لئے نا جائز ہے اور خدا اس کو ضرور سزا دے گا اور ہدایت پانا نہ پانا اس کے لئے برابر ہے۔ پر ہمو سماج والوں کا دعاؤں پر کچھ ایسا اعتقاد ہی نہیں وہ ہر وقت اپنی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔ اگر چاہتے ہیں تو اسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔ تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں۔ اسی کے لئے جیتے ہیں۔ اسی کے لئے مرتے ہیں۔ عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔ لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور قسیم سے صسم و بکم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذت پاتے ہیں۔ عشق است که بر خاک مذلّت غلطاند عشق است که بر آتش سوزاں بنشاند کس بہر کسے سر ندهد جان نہ فشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند از انجمله اخلاق فاضلہ ہیں جیسے سخاوت شجاعت ایثار علو همت و فور شفقت حلم حیا مودت یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ یہ یمن متابعت قرآن شریف و فاداری سے اخیر عمر تک ہر یک حالت میں ان کو بخوبی و شائستگی انجام دیتے ہیں اور کوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاق حسنہ کی کما ینبغی صادر ہونے سے ان کو روک سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خوبی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہوسکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہو سکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الہی ہے۔ پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ مورد فضل الہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفضلات نامتناہی سے تمام خوبیوں سے ان کو متمتع کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو