براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 541

۵۳۹ براہین احمدیہ حصہ روحانی خزائن جلد ۱ اور مادر زاد اندھے ایک ہی غوطہ مار کر ا چھے ہو جاتے تھے اور جو صد ہا سال سے اپنے خواص عجیبہ کے ساتھ یہودیوں اور اس ملک کے تمام لوگوں میں مشہور اور (۲۵۱) بت پرست بھائی اپنی دعاؤں میں جنم مرن سے بچنے کے لئے یعنی اواگون سے جوان کے زعم باطل میں ٹھیک اور درست ہے طرح طرح کے اشلوک پڑھا کرتے ہیں اور صراط مستقیم کو خدا سے نہیں مانگتے ۔ علاوہ اس کے اللہ تعالیٰ نے تو اس جگہ جمع کا لفظ بیان جلد ثابت ہوسکتا ہے۔ از انجملہ ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت الہیہ تا شیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار ان کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت انس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع اور گستہ کر دیتا ہے اور آتشِ عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہور اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبان صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے۔ جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور ان کی صورت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور ان کے بال بال سے مترشح ہو رہا ہے وہ ان کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا۔ اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر ان کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔ کسی تلوار کی تیز دھار ان میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کو ئی بالیہ نظمی ان کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتی اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی