براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 537 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 537

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۳۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور اس بات کے ثبوت میں بہت سی مشکلات پڑتی ہیں (۴۴۷ کہ یہودیوں کی رائے کے موافق مسیح مکار اور شعبدہ باز نہیں تھا اور نیک چلن ہر یک مقصد کے حصول کے لئے ایک مقرری طریقہ ہے جب تک انسان اس طریقہ (۴۴۷ مقررہ پر قدم نہیں مارتا تب تک وہ امر اس کو حاصل نہیں ہوتا پس وہ شے جس کو محنت اور کوشش اور دعا اور تضرع سے حاصل کرنا چاہئے صراط مستقیم ہے ۔ جو شخص صراط مستقیم ڈالتی ہے اور صداقت اور معرفت ہر یک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبار غیبیہ بھی اسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضات شاقہ بھی بجالاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں مگر علم الہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے۔ یہاں تک کہ حق اور باطل میں تمیز ہی نہیں کر سکتا بلکہ خیالات فاسدہ میں گرفتار اور عقائد غیر صحیحہ میں مبتلا ہے ہر ایک بات میں خام اور ہر ایک رائے میں فاش غلطی کرتا ہے تو ایسا شخص طبائع سلیمہ کی نظر میں نہایت حقیر اور ذلیل معلوم ہوگا۔ اس کی ۴۴۷ کے یہی وجہ ہے کہ جس شخص سے دانا انسان کو جہالت کی بد بو آتی ہے اور کوئی احمقانہ کلمہ اس کے منہ سے سن لیتا ہے تو فی الفور اس کی طرف سے دل متنفر ہو جاتا ہے اور پھر وہ شخص عاقل کی نظر میں کسی طور سے قابل تعظیم نہیں ٹھہر سکتا اور کو کیسا ہی زاہد عابد کیوں نہ ہو کچھ حقیر سا معلوم ہوتا ہے پس انسان کی اس فطرتی عادت سے ظاہر ہے کہ خوارق روحانی یعنی علوم و معارف اس کی نظر میں اہل اللہ کے لئے شرط لازمی اور اکابر دین کی شناخت کے لئے علامات خاصہ اور ضرور یہ ہیں ۔ پس یہ علامتیں فرقان شریف کی کامل تابعین کو اکمل اور اتم طور پر عطا ہوتی ہیں اور باوجود یکہ ان میں سے اکثروں کی سرشت پر امنیت غالب ہوتی ہے اور علوم رسمیہ کو باستیفا حاصل نہیں کیا ہوتا لیکن نکات اور لطائف علم الہی میں اس قدر اپنے ہم عصروں سے سبقت لے جاتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے مخالف ان کی تقریروں کو سن کر یا ان کی تحریروں کو پڑھ کر اور دریائے حیرت