براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 535 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 535

روحانی خزائن جلد 1 ۵۳۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم کہ حضرت مسیح اسی حوض پر اکثر جا یا بھی کرتے تھے تو اس خیال کو اور بھی (۳۴۶) قوت حاصل ہوتی ہے ۔ غرض مخالف کی نظر میں ایسے معجزوں سے کہ بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کو وہ راستہ کھلا اور راہ پر ہم کو ثابت اور قائم کر کے سیدھا ہے جس میں کسی نوع کی کجی نہیں ۔ اس صداقت کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کی حقیقی دعا یہی ہے کہ وہ خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ طلب کرے کیونکہ ہر یک مطلوب کے حاصل کرنے کے لئے طبعی قاعدہ یہ ہے کہ ان وسائل کو حاصل کیا جائے جن کے ذریعہ سے وہ مطلب ملتا ہے اور خدا نے ہر یک امر کی تحصیل کے لئے یہی قانون قدرت ٹھہرا رکھا ہے کہ جو اس کے حصول کے وسائل ہیں وہ حاصل کئے جائیں اور جن ۴۴۶ ہیں ۔ جب انسان فرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امر اور نہی کے نگلی حوالہ کر دیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی باقی نہیں رہتا ۔ تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الہی کے جو کلام الہی میں پوشیدہ ہیں اس پر کھلتے ہیں اور ابر نیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔ وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا لے یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا۔ سو یه علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پرمشتمل ہونے کی وجہ سے بحر محیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقہ اُن کے نفس آ ئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔ اور تائیدات الہیہ ۴۴۶ البقره: ۲۷۰