براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 525 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 525

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۲۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم پانی ملنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اتر تاکیسی ہی بیماری میں کیوں نہ ہو اس سے (۴۲۷) چنگا ہو جاتا تھا اور وہاں ایک شخص تھا کہ جو اٹھتیس برس سے بیمار تھے یسوع نے سے حصہ نہ پہنچا ہو یہ وہی مکافات عظیمہ کا انتہائی مرتبہ ہے جس کو فرقان مجید نے دوسرے ۴۳۷) لفظوں میں بہشت اور دوزخ کے نام سے تعبیر کیا ہے اور اپنی کامل اور روشن کتاب میں دیا ہے کہ وہ بہشت اور دوزخ روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مکافات پر اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے۔ تم اسے مشرکو بجز خدا کے صرف بے جان بتوں کی پرستش کرتے ہو اور ۴۳۷ سراسر جھوٹ پر جم رہے ہو ۔ سو اس پلیدی سے جو بت ہیں پر ہیز کرو اور دروغ گوئی سے باز آؤ۔ کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں اور تم سورج اور چاند کو بھی مت سجدہ کرو اور اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر حقیقی طور پر خدا کے پرستار ہو تو ای خالق کی پرستش کرونہ مخلوق کی۔ سورج کو یہ طاقت نہیں کہ چاند کی جگہ پہنچ جائے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے کوئی ستارہ اپنے فلک مقرری سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ زمین آسمان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مخلوق اور بندہ خدا ہونے سے باہر ہو اور اگر کوئی کہے کہ میں بھی بمقابلہ خدائے تعالیٰ ایک خدا ہوں تو ایسے شخص کو ہم واصل جہنم کریں اور ظالموں کو ہم یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ سو تم خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور یہ مت کہو کہ تین میں باز آ جاؤ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اے لوگو ایک مثال ہے تم غور کر کے سنو جن چیزوں سے تم مرادیں مانگتے ہو وہ چیزیں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو اس سے چھوڑ نہیں سکتیں۔ طالب بھی ضعیف ہیں اور مطلوب بھی ضعیف یعنی مخلوق چیزوں سے مرادیں مانگنے والے ضعیف العقل ہیں اور مخلوق چیزیں جو معبود ٹھہرائی گئیں وہ ضعیف القدرت ہیں۔ مشرک لوگوں نے جیسا چاہئے تھا خدا کو شناخت نہیں کیا وہ ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا خدا کا کارخانہ بغیر دوسرے شرکاء کے چل نہیں سکتا حالانکہ خدا اپنی ذات میں صاحب قوتِ تامہ